بیگم نصرت بھٹو ایک جہد مسلسل -ریاض حسین بخاری

n-bhutto1

پوری پاکستانی قوم نے 23اکتوبر کو بیگم نصرت بھٹو کی 85ویں سالگرہ منائی ۔ وہی بیگم نصرت بھٹوجو پاکستان کی موجودہ اور آنے والی نسلوں خصوصاًخواتین کے لیے ایک مشعلِ راہ ہیں۔ اپنی جہد مسلسل اور زندگی کے نشیب و فراز کی وجہ سے کبھی آئرن لیڈی آف پاکستان کہا گیا تو کبھی انہیں مادرِ جمہوریت کے خطاب سے نوازا گیا۔ انہیں پاکستان کی خاتون اول ہونے کا اعزاز حاصل ہوا تو بعد از مرگ ان کو اپنی بے مثال خدمات ، قربانیوں اور ہمت پر پاکستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ ستارہ امتیاز دیا گیا۔ لیکن ان سب اعزازات سے بڑھ کر ان کے لیے جو محبت اور عقیدت پاکستانی قوم کے دل میں ہے وہ بھی ان کی بے مثال قربانیوں ، صبر و استقامت جہد مسلسل صبر و برداشت کا نعم البدل نہیں ہو سکتی آج میں جو چند لائینیں ان کے لیے حد درجہ احترام کا جذبہ دل میں رکھتے ہوئے لکھ رہا ہوں وہ ان کی خدمات کا اعتراف کرنے کے لیے نا کافی ہے۔ کیونکہ میں خود میں وہ جرات پانے کی استطاعت نہیں رکھتا جن سے ان کے لئے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کر سکوں۔ یہاں میں ان کے نشیب و فراز سے بھر پور زندگی کے چند اوراق پلٹنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ مجھے وہ وقت یاد ہے جب ایوب آمریت نے بانی پاکستان پیپلز پارٹی جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کو پابند سلاسل کیا تو اس وقت پاکستان کی ساری سیاسی قوتیں دبک کر بیٹھ گئی تھیں اور ایوب کا خیال تھا کہ بھٹو صاحب کی غیر موجودگی میں پی پی پی جیسی نو زائیدہ سیاسی جماعت کا وجود ختم ہو جائے گا لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ اس پارٹی کی رہنمائی شہری آزادیوں کی بحالی اور بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کی تحریک کے لیے بھٹو صاحب کی زوجہ محترمہ بیگم نصرت بھٹو آگے بڑھیں گی اور اس تحریک کو جو بھٹو صاحب نے ایوبی آمریت کے خلاف شروع کی تھی اسی آب و تاب سے جاری رکھیں گی۔ یہ تحریک روز بروز زور پکڑتی گئی پھر دنیائے سیاست نے دیکھا کہ پی پی پی کی رہنمابیگم نصرت بھٹو ساہیوال میں دورے کے دوران تانگے پر سفر کرتی ہیں ، جگہ جگہ پیدل سفر کرتی ہیں ۔ باقاعدہ مہم چلاتی ہیں۔ پھر گوجرانوالہ میں لاؤڈ سپیکر پر ان کے جلسے کا اعلان کیا جاتا ہے۔اس وقت کے ان کے نوجوان غریب ،مزدور اور طلباء ساتھیوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ لیکن جیل سے باہر آتے ہی وہ نوجوان پھر ان کے جلسے سے خطاب کا اعلان کرنے لگ جاتے ہیں۔ بیگم نصرت بھٹوجلسے سے خطاب کرتی ہیں اور اس یقین کا اظہار کرتی ہیں کہ پاکستان کے غریب عوام ، مزدور ، کسان ، وکلاء اور طلباء اس تحریک میں ان ساتھ دیں گے۔ جلسہ کے فوراً بعد بیگم نصرت بھٹو لاہور روانہ ہوتی ہیں بھر پور تحریک چلتی ہے ۔ آخر کار ایوبی آمریت گھٹنے ٹیک دیتی ہے۔1970ء کے الیکشن ہوتے ہیں مغربی پاکستان میں پی پی پی کلین سوئپ کرتی ہے ۔ تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں ۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو ملک خدادا کی زمام اقتدار سنبھالتے ہیں ۔ بیگم صاحبہ دن رات اپنے شوہر کے شانہ بشانہ قوم کی خدمت میں لگی رہتی ہیں۔ ایوانِ صدر ہو یا وزیر اعظم ہاؤس بیگم صاحبہ کے دونوں دفاتر کارکنوں کے لیے کھلے رہتے ہیں۔ اور وہ با قاعدگی سے اپنے کارکنان سے ملتی ہیں۔
تاریخ کا ایک اور بھیانک موڑ آتا ہے ستمبر 1977ء میں قائد عوام گرفتار ہو چکے ہیں ۔ اکتوبر 1977ء کے مجوزہ الیکشن کی انتخابی مہم شروع ہو چکی ہے ۔ بیگم صاحبہ کی ولولہ انگیز قیادت میں تحریک میں عوام کا جوش و خروش دیکھ کر مارشل لائی حکومت گھبرا جاتی ہے۔ وہ مارشل لاء جس آمر نے لگایا تھا میں اس کا نام لینا بھی گناہ سمجھتا ہوں۔ وہ بزدل اور ظالم حکومت گھبرا کر سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دیتی ہے اور الیکشن ملتوی کر دیتی ہے۔
جولائی 1979ء میں مار شل لاء کے نفاذ کے بعد اس کے حامی سمجھتے ہیں کہ پی پی پی ختم ہو چکی ہے تو 8اگست 1979ء کو لاہور ریلوے سٹیشن پر چیئرمین صاحب کے استقبال سے اس خبیث شیطان کی نیند اڑ جاتی ہے۔ وہ جنابِ بھٹو کو جسمانی طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کر لیتی ہے۔ کیونکہ اس کے علاوہ انہیں اپنے مسائل کا کوئی حل نظر نہیں آتا ۔ اپریل 1979ء کو بھٹو صاحب کی شہادت کے بعد بھٹو دشمن قوتوں کے ایماں پر بلدیاتی انتخابات کرواتی ہے تو اس میں پی پی پی عوام دوست گروپ کے نام سے حصہ لیتی ہے اور ملک میں 70سے80 فیصد نششتیں جیت جاتی ہے اور اس کے بعد ایک دلنشین نعرہ افق پر طلوع ہوتا ہے وہ لازوال نعرہ (جب تک سورج چاند رہے گا بھٹو تیرا نام رہے گا) اب بھی اسی آب و تاب سے لگایا جاتا ہے۔ اس شاندار کامیابی کے بعد ملک کی نمائندہ سیاسی جماعتیں متحرمہ بیگم نصرت بھٹو کی قیادت میں خبیث آمریت کے خلاف ایک مشترکہ پلیٹ فارم (ایم آر ڈی)پر اکٹھے ہوتے ہیں اور تحریک بحالی جمہوریت اپنا سفر شروع کرتی ہے۔ اس تحریک کے دوران ایسے واقعات بھی دیکھنے میں آتے ہیں جب بیگم نصرت بھٹوصاحبہ اور بی بی شہید کے سر پر لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں ایک کرکٹ میچ کے دوران لاٹھیاں برسا دی جاتی ہیں ۔ بیگم صاحبہ شدید زخمی ہو جاتی ہیں اور ہسپتال میں ان کے سر پر ان گنت ٹانکے لگائے جاتے ہیں ۔ یہ سارے واقعات میری آنکھوں کے سامنے ایک فلم کی طرح چل رہے ہیں ۔ پھر عالمی دنیا اور میڈیا کے شدید دباؤ پر بیگم صاحبہ کو علاج کی غرض سے باہر ملک جانے کی اجازت دے دی جاتی ہے محترمہ شہید بھی ان کے ساتھ ہوتی ہیں۔صنم بھٹو صاحبہ، میر مرتضیٰ بھٹو اور میر شاہنواز بھٹو پہلے ہی جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پھر ایک خوشگوار موقع آتا ہے جہاں ساری فیملی 1985ء میں پیرس میں اکٹھی ہوتی ہے۔ لیکن ان خوشیوں کو زمانے کی نظر لگ جاتی ہے اور اچانک 18جولائی 1985ء کی رات شاہنوازبھٹو اپنے فلیٹ میں مردہ پائے جاتے ہیں اور بیگم صاحبہ کو یہ ناقابل برداشت صدمہ جھیلنا پڑتا ہے۔ جو کہ اپنے عظیم شوہر کی شہادت کا صدمہ بھی پہلے ہی جھیل چکی ہیں۔ بی بی شہید نے شاہنواز بھٹو کی موت کو طبعی موت ماننے سے انکار کر دیا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے پیارے بھائی کا جسد خاکی لے کر خود پاکستان جائیں گی اور ایک ماہ کے اذیت ناک انتظار کے بعد محترمہ شہید بھائی کی میت کے ساتھ پاکستان آتی ہیں ۔ تدفین کے بعد محترمہ واپس اپنی والدہ کے پاس چلی جاتی ہیں (شاہنواز بھٹو کی موت ابھی تک ایک راز ہے) ۔
پھر 10 اپریل آتا ہے بی بی شہید لاہور ایئر پورٹ پر اترتی ہیں اور لاہور کی سڑکیں دس لاکھ افراد کے ساتھ ان کا استقبال کرتی ہیں۔ بیگم صاحبہ نے جس اذیت کے ساتھ بی بی شہید کو اکیلا روانہ کیا ہوگا وہ درد کوئی اور محسوس نہیں کر سکتا۔ چیئرمین بھٹو کی شہادت اور اپنے معصوم بیٹے کو شہید ہوتا دیکھ کر بھی بی بی شہید کو پاکستان جانے کی اجازت دینے سے ان کے عزم ، ولولہ اور یہاں کے عوام سے محبت کا ان مٹ اظہار ہوتا ہے۔
اگست 1988ء میں وہ خبیث آمر قدرت کے انتقام کا نشانہ بنتا ہے ۔ پھر بیگم صاحبہ بھی پاکستان تشریف لے آتی ہیں ان کا درد اس فقرے سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے۔ کہ ضیاء کے بغیر پاکستان کتنا خوبصورت لگ رہا ہے۔ دسمبر 1988 ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ وزیر اعظم منتخب ہوتی ہیں اور بیگم صاحبہ اسلام آباد شفٹ ہو جاتی ہیں۔ انہیں سینئر وفاقی وزیر کا عہدہ دیا جاتا ہے۔ اگست 1990ء میں پی پی پی کی حکومت ختم کر دی جاتی ہے اور وہ یہاں سے کراچی واپس جاتے ہوئے اپنے دل شکستہ کارکنان کو حوصلہ دیتی ہیں کہ اپنا مشن جاری رکھنا ہے۔ 1990سے 1993ء تک کا دور بیگم صاحبہ اور محترمہ کے لیے شدید اذیتوں کا دور ہے ۔ یہاں پر بیگم صاحبہ اپنی پیرانہ سالی باوجود اپنی جد و جہد جاری رکھتی ہیں اور پھر محترمہ بے نظیر بھٹو دوبارہ وزیر اعظم بن جاتی ہیں۔
تاریخ ایک نیا موڑ لیتی ہے ستمبر1996ء میں میر مرتضیٰ بھٹو اپنے گھر کے سامنے قتل کر دیئے جاتے ہیں۔ یہ ان اذیت ناک سابقہ صدموں کی ایک کڑی ہے جس سے بیگم صاحبہ بڑے صبر سے پھر جھیلتی ہیں ۔ جب ان سے کوئی تعزیت کا اظہار کرنا چاہتا ہے تو بیگم صاحبہ صرف آسمان کی طرف انگلی اٹھا دیتی ہیں ۔ کچھ عرصہ بعد ایک آستین کا سانپ پھر پی پی پی کی حکومت ختم کر دیتا ہے اور انتخابات میں ایک سابقہ وزیر اعظم کو بھاری مینڈیٹ دیا جاتا ہے اور بیگم صاحبہ اور محترمہ شہید کا جھوٹا اور خود ساختہ احتساب شروع کر دیا جاتا ہے۔ محترمہ اپنی والدہ کے پاس دبئی چلی جاتی ہیں جو پہلے ہی وہاں رہائش اختیار کر چکی تھی۔ اس بھاری مینڈیٹ کو ایک اور طالعے آزما حکومت کا تختہ الٹ کر ختم کر دیتا ہے۔ ملک کو ایک اور مار شل لاء کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ 18اکتوبر 2007ء کو محترمہ کراچی ایئر پورٹ پر آتی ہیں اور پھر تاریخ کا سب سے بڑا استقبال تو ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ سانحہ کارساز برپا کر دیا جاتا ہے جس میں سینکڑوں جانثار انِ بے نظیر شہید ہو جاتے ہیں۔ بی بی ہمت نہیں ہارتیں اپنی مہم جاری رکھتی ہیں اور آخر کار پاکستان کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک اور سیاہ دن 27دسمبر2007ء آتا ہے اور محترمہ کو ہم سے چھین لیتا ہے انہیں عوام کے درمیان شہید کر دیا جاتا ہے۔ ان سارے واقعات کو بیگم صاحبہ سے خفیہ رکھا جاتا ہے۔ بیگم صاحبہ شدید علیل ہیں اور آخر کار اپنی اس طویل بیماری سے لڑتے لڑتے اللہ کو پیاری ہو جاتی ہیں اور 23اکتوبر کو جہد مسلسل عزم مصمم اور صبر و استقامت کا یہ پیکر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملتا ہے۔
بیگم نصرت بھٹوایک ایرانی نژاد پاکستانی تھیں وہ 23مارچ 1929ء کو ایران کے شہر اصفہان میں پیدا ہوئیں وہ نسلاً کرد تھیں لیکن کچھ محققین کے مطابق کردوں سے ان کا تعلق ان کی دادی کی وجہ سے ہے جن کی شادی ایران کے حریری خاندان میں ہوئی ۔ بیگم نصرت بھٹوصاحبہ کے والد ایک صاحب ثروت اور متمول تاجر تھے جو کراچی آکر بس گئے تھے۔ یہی بیگم صاحبہ کی ملاقات ذوالفقار علی بھٹو شہید سے ہوئی اور وہ 8ستمبر 1951ء کو رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔ بیگم نصرت بھٹوصاحبہ بھٹو شہید کی دوسری زوجہ محترمہ تھیں۔ ان کی چار اولادیں ہوئیں جن میں سے صرف صنم بھٹو صاحبہ حیات ہیں باقی محترمہ شہید، شاہنواز بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہو چکے ہیں۔
محترمہ بیگم نصرت بھٹو کو بے پناہ اعزازات سے نوازجا چکا ہے لیکن کوئی اعزاز بھی ان کے صبر و استقامت جہد مسلسل اور عوامی خدمات کا عشر عشیر بھی نہیں ہیں وہ دور حاضر کی سب سے با ہمت خاتون تھیں جن کی زندگی میں ہر قسم کے نشیب و فراز آئے لیکن ان کے عوامی کمٹمنٹ میں کبھی کوئی لرزش نہ آئی ان جیسی ہستیاں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ وہ ایک فرمانبردار بیٹی ایک وفا شعار بیوی اور بے پناہ پیار کرنے والی ماں تھیں۔ انہوں نے ہر رشتے کو اپنا فرض سمجھ کر نبھایا۔
خدا ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے۔ (آمین)
بشکریہ ریاض حسین بخاری
ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پی پی پی ملتان شہر

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں