Mian Manzoor Wattoo describes Wagha bomb blast as a sheer security lapse

218860_l
Mian Manzoor Ahmed Wattoo, President Punjab PPP, has described the Wagha border bomb blast as a sheer security lapse adding that the authorities should have taken extra vigilant when early warning was given to them by the security agencies in this regard.
He said this while talking to media at Gurkhi hospital here today where he went to enquire about the health of the injured persons of the terrorist attack. He prayed for their early recovery.
He said that Chairman Bilawal Bhutto was the first leader of the country who loudly and clearly declared that the terrorists must be taken head on as they only understand the language of force because they were devoid of civility and stood for barbarity.
He said that the nation was united to defeat terrorists to make the country a citadel of peace and security adding he had no doubt in his mind about the success of Pakistani people in this account.
He appreciated the determination of the injured persons who expressed their resolve to defeat the menace firmly believing that such cowardice acts of terrorism would not weaken their resolve.
To another question, Main Manzoor Ahmed Wattoo urged the government that the victims of the bomb blast must be compensated immediately as per announcement. Delay in this regard is unforgiving, he observed.
He regretted that similar cheques issued by the Punjab government were dishonored lately that indeed tantamount to joke to the victims.
He appreciated the Management of the hospital that looked after the injured persons well by providing them excellent medical facilities.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo was accompanied by the leaders of the PPP and office bearers of Lahore.

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے آج یہاں گھرکی ہسپتال میں واہگہ بارڈر کے زخمیوں کی عیادت کی۔ انہوں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ زخمیوں کے حوصلے قوم کے حوصلوں کی طرح بلند ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردوں کی ان بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کا عزم کمزور نہیں ہوگا بلکہ زیادہ مضبوط ہوگا اور ان دہشتگردوں کو شکست فاش ہر قیمت پر دی جائے گی۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ واہگہ بارڈر پر دھما کہ ایک سیکیورٹی کی ناکامی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی حساس جگہوں پر جہاں پر عام لوگ کافی تعداد میں پریڈ دیکھنے آتے ہیں اس طرح کا افسوسناک واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ میاں منظور احمد وٹو ہر ایک زخمی کے پاس گئے جو وہاں زیر علاج ہیں اور انکی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔ اسکے بعد میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ چےئرمین بلاول بھٹو نے سب سے پہلے دہشتگردوں کے خلاف آواز بلند کی اور کہا کہ ان سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتااور انکو طاقت کے ذریعے ہی شکست دینا ہو گی۔انہوں نے قوم کے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشتگردوں اور انتہاء پسندوں کو شکست دے کر پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے میاں منظور احمد وٹو نے افسوس کا اظہار کیا کہ ابھی تک واہگہ بارڈر کے دھماکے کے شہداء کو حکومت کی طرف سے اعلان کردہ مالی امداد نہیں ملی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت شہداء کے ورثاء کو فوری طور پر مالی امداد دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ حکومت پنجاب کے اسی طرح کے پہلے سے جاری کئے ہوئے چیکس بینک نے واپس کر دےئے تھے۔ میاں منظور احمد وٹو نے گھرکی ہسپتال کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے واہگہ بارڈر کے زخمیوں کے علاج کے لیے اتنی اچھی طبی سہولتیں فراہم کیں۔ میاں منظور احمد وٹو کے ساتھ اورنگزیب برکی، سہیل ملک، میاں عبدالوحید، میاں ایوب، عابد صدیقی، علامہ یوسف اعوان، ذوالفقار اور ڈاکٹر خیام تھے۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں