Qurban Ali Khan, head of Ditta Khel, joins PPP‏

1458471_469959393141821_987545366407681081_n
PPP during it previous democratic government’s watch appointed an independent Election Commissioner after consultations but unfortunately he could not assert and the role of the members of the Election Commission became controversial casting aspersions on the whole electoral process of 2013, said Mian Manzoor Ahmed Wattoo, President Punjab PPP while talking to media on the occasion of the joining of Qurfban Khan Niazi in PPP here today, younger brother of late Dr. Sher Afghan Nizai, a former federal Minister.
He said that Opposition leader Syed Khurshid Shah was engaged in consultation with other parties hoping that this time a comparatively young, healthy and assertive Chief Election Commissioner would be appointed who would hold elections that no body could raise finger on their authenticity and credibility. In India and in the civilized world elections hardly become controversial, he pointed out.
To another question, Mian Manzoor Ahmed Wattoo described the change in stance of PTI as healthy development urging that the government and the Parliament should accept it to get the country out of the prevailing crippling political straitjacket.
He said that the difference between the PPP and PTI style of politics was obvious because PPP wanted the resolution of the political problems in the Parliament whereas PTI intended to force the settlement outside the Parliament.
He expressed his optimism that the PTI would also revert to the Parliament and democratic process like Dr.Tahir-ul- Qadari, at the end of the day because their present mode of politics was not sustainable in a democratic dispensation where constitution was supreme.
He observed that the mishandling of the Model Town incident and Dr. Tahir-ul- Qadari by the Punjab government based on its offensive policy led to the situation out of control of the government. The application of grossly disprortionate police force just to remove encroachments optimized the administrative and crisis management inaptness, he maintained.
To another question regarding the new assignment of Jehangir Badar in the Party, Mian Manzoor Ahmed Wattoo said that he was an experienced and dedicated old hand of the Party and we all would like to benefit from his experience. He expressed his hope that he would extend his co-operation as a team member to nurture the tree of democracy in the country for the benefit of the posterity as well.
Earlier, Mian Manzoor Ahmed Wattoo appointed Qurban Ali Khan as Co-ordinator of Mianwali expressing his confidence that the Party would gain immensely under his leadership to emerge as the credible political force. He is head of Ditta Khel tribe.
Mr. Qurban Khan Niazi while talking to media assured that he would put his best efforts to come up to the expectations of the leadership. Replying to a question, he said that the PTI’s surge was temporary and the time would witness its sharp decline sooner than later.
At the occasion Mr. Tanvir Ashraf Kaira, Suhail Milk, Manzoor Maneka, Mr. Javed Akhtar, Raja Amir Khan, Ismail Khan, Dr. Khayyam etc were present.

پیپلز پارٹی کی پچھلی جمہوری حکومت نے مشاورت کے بعد ایک ایماندار اور مخلص چیف الیکشن کمشنر تعینات کیا تھا لیکن بد قسمتی سے وہ اپنی ٹیم کو کنٹرول نہ کر سکے اور الیکشن کمیشن کے ممبران کے کردار نے 2013 ؁ء کے تمام انتخابی عمل کو متنا زعہ بنادیا ہے۔ یہ بات صدر پیپلز پارٹی پنجاب میاں منظور احمد وٹو نے آج یہاں قربان علی خان نیازی جو مرحوم ڈاکٹر شیر افگن نیازی کے چھوٹے بھائی ہیں، کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کے موقع پر میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ اسوقت دوسری پارٹیوں سے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے ضمن میں مشاورت کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس دفعہ ایسا چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا جائے گا جو ملک میں صحیح معنوں میں آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف ا نتخابات کروائے گا جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور مہذب دنیا میں ایسے انتخابات ہوئے ہیں جنکی کریڈیبلیٹی پر کوئی شک نہیں کیا جا سکتا۔ ایک اور سوال کے جواب میں میاں منظور احمد وٹو نے پاکستان تحریک انصاف کے موقف میں تبدیلی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ حکومت اور پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے ذریعے انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے مطالبے کو تسلیم کر لینا چاہیے تا کہ ملک کو جاری سیاسی شکنجے سے نجات ملے جس نے قومی زندگی کو مفلوج کر رکھا ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے طرز سیاست میں بڑا فرق ہے، پیپلز پارٹی پارلیمنٹ کے اندر مسائل کوحل کرنے میں یقین رکھتی ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹ کے باہرمسائل کو حل کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف بھی ڈاکٹر طاہر القادری کی طرح جمہوری طرز سیاست کی طرف جلد لوٹ آئے گی کیونکہ دھرنے کی سیاست دوام سے عاری ہوتی ہے اور اسکو جمہوری معاشرے میں زیادہ دیر تک جاری رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف بھی جلد پارلیمنٹ کا رخ کرے گی ۔ میاں منظور احمد وٹو نے پنجاب حکومت کی مس ہینڈلنگ کو موجودہ بحران کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ماڈل ٹاؤن میں تجاوزات ہٹانے کے لیے 14لوگوں کو قتل کرنا ضروری نہیں تھا بلکہ یہ ایک مجرمانہ فعل تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا جارحانہ طاقت کا استعمال فاش غلطی تھی جو کہ حکومتی انتظامی صلاحیتوں کی بانجھ پن کا مظہر ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں میا ں منظور احمدو ٹو نے کہا کہ جہانگیر بدر کی پارٹی میں نئی تعیناتی اچھا فیصلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہانگیر بدر ایک تجربہ کار اور پارٹی کے مخلص کارکن ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ ٹیم ممبر کی حیثیت سے اپنا بھرپور تعاون پیش کریں گے اور پارٹی کو فعال بنانے میں پوری کوشش کریں گے۔ اس سے قبل میاں منظور احمد وٹو نے قربان علی خان نیازی کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں میانوالی کا کوآرڈینیٹر بھی مقرر کر دیا۔ قربان علی خان نیازی دتا خیل قبیلے کے سربراہ ہیں۔ قربان علی خان نے اس موقع پر یقین دلایا کہ وہ پارٹی قیادت کی امیدوں پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی اٹھان عارضی ہے اور وقت اسکو صحیح ثابت کرے گا۔ اس موقع پر تنویر اشرف کائرہ، سہیل ملک، منظور مانیکا، جاوید اختر، راجہ عامر خان، اسماعیل خان، ڈاکٹر خیام وغیرہ موجود تھے۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں