Mian Manzoor Ahmed Wattoo says danger of Martial law is over

10641099_699044366869054_8235107922473006488_n
The danger of Martial law in the country is over and the Pakistan Peoples Party is ready to play the role of an active opposition in the country’s politics, said Mian Manzoor Ahmed Wattoo in a local TV interview here today.
He said that the strategy of the PPP met with success because the democracy was on track adding that the civil society was appreciating the stance of the Party throughout the political crisis that paralyzed the government.
To a question, he said that the PPP did not agree with PTI Chief regarding the involvement of the Army representatives in the Supreme Court Commission to investigate the rigging allegations as there was no constitutional provision to the effect.
He added it would have been much better for the PTI Chief if he had become the Chairman of the Parliamentary Committee for Electoral Reforms mandated to reform the electoral system to hold fair, free and impartial elections in the real sense. The nation would have been beholden to him for this shining contribution, he added.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo drew clear distinction between the PPP and the other majority of the political Parties who were status quo parties whereas PPP was Liberal, democratic and progressive Party. He pointed out that both PML (N) and PTI are status-quo parties.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo appreciated the role of Opposition Leader Syed Khurshid Shah in the political crisis by uniting the democratic forces in the country against the anti-democratic forces.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo said that the government had cheated the people by giving far less relief to the them because the prices of oil in the international market had nosedived from dollar 120 to merely 78 dollars per barrel.
He pointed out that the government also tricked the poor people of Pakistan by depriving them from their hard earned money to the extent of Rs. 70 billion through overbilling and Abid Sheer Ali was observing deafening silence on this to the dismay of all.
Mian Manzoor Ahmed criticized the anti-farmers policy of the government adding that the support price of the cash crops was meager in the face of the rate of inflation in the country. He said that the farmers were getting ready to take the government head on due to its step-motherly treatment towards them.

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے آج یہاں مقامی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اب ملک میں مارشل لاء کا خطرہ نہیں رہا ہے اس لیے پیپلز پارٹی صحیح اپوزیشن پارٹی کا کردار ادا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کی حکمت عملی کامیاب رہی جسکے نتیجے میں جمہوریت پٹڑی سے نہیں اتری جسکو سول سوسائٹی میں بڑی پذیرائی مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ایک لبرل ، جمہوری اور ترقی پسند جماعت ہے جبکہ ملک کی زیادہ تر سیاسی پارٹیاں قدمات پسند اور سٹیٹس کو چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی غریب عوام کی پارٹی ہے جس نے کسانوں، مزدورں و ریڑھی والوں، ہاریوں ، اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کے لیے بے مثال جدوجہدکی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان کی اس تجویز سے انہوں نے اتفاق نہیں کیا کہ سپریم کورٹ کے تحت انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے کمیشن میں حساس اداروں کے نمائندو ں کو بھی شامل کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسکی آئین میں کوئی گنجائش نہیں۔انہوں نے کہا کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ عمران خان پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کے چےئرمین بن جاتے اور انتخابی عمل میں ایسی دوررس تبدیلیاں لاتے جس سے ملک میں صاف ،شفاف اور آزادانہ انتخابا ت کروانا ممکن ہوتے اور قوم انکی ممنون ہوتی۔میاں منظور احمد وٹو نے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سارے سیاسی بجران میں بہترین کردار ادا کیا اور جمہوری قوتوں کو متحد کیا۔میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ اب سوموٹو کہیں نظر نہیں آرہے جبکہ پیپلز پارٹی کے پچھلے دور میں انکی بھرمار تھی جس نے جمہوری حکومت کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسکے باوجود پیپلز پارٹی کی حکومت نے متفقہ طور پر کئی دوررس ترامیم کیں اور سابق صدر آصف علی زرداری نے رضاکارانہ طور پر اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو دے کو اسکو مضبوط کیا۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی نجکاری کے خلاف ہے اور وہ مزدوروں کے حقوق پر کبھی سودے بازی نہیں کرے گی۔میاں منظور احمد وٹو نے افسوس کا اظہار کیا کہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتیں 120ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 78ڈالر تک گر گئی ہے لیکن حکومت نے اسی تناسب سے عوام کو ریلیف نہیں دیا۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ حکومت نے 70ارب روپے کی اوور بلنگ کر کے غریب عوام کو ٹیکہ لگایا جو کسی لحاظ سے بھی قابل معافی نہیں اور سراسر بے ایمانی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ عابد شیر علی نے اس ضمن میں کوئی انکوائری نہیں کروائی جو انکی لاپرواہی اور عوام دشمن پالیسی کا مظہر ہے۔میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کسان دشمن پالیسیاں ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اور انکی سپورٹ پرائس افراط زر کے مقابلے میں کہیں کم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کھاد ، کیڑے مار ادویات، ٹیوب ویلوں کے لیے مہنگی بجلی اور ٹریکٹر وغیرہ کی قیمتوں نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے او روہ سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زرعی اشیاء پر حکومت کی ایکسپورٹ ڈیوٹی حکومت کی کسان دشمن پالیسی کامنہ بولتا ثبوت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں