PPP rejects PTI Chief proposal: Tanvir Ashraf Kaira‏

Secretary General Pakistan people’s Party Punjab, Tanvir Ashraf Kaira has rejected the demand of the PTI Chief Imran Khan of associating the officials of the army with the proposed Judicial Commission of the Supreme Court assigned to investigate the rigging allegations in the elections held in 2013.
He said that such proposal from the PTI Chief should not be treated seriously because its implementations might end up in the confrontation of the both institutions with serious ramifications for the country.
He pointed out that the acceptance of the proposal would also mean dragging of the army in the area filled with dangers of triggering unnecessary controversy in the media that might divert the attention of army from its primary responsibility of defending the country.
He pointed out that the constitution did not allow such arrangement for the army in domestic politics and assigning such role would set a bad precedent detrimental to the evolution of the political system in the country.
He said that the role of the agencies in the Asghar Khan case was still fresh in the memories of the people when Benazir Bhutto was defeated in the elections with the connivance of agencies by forming IJI.
The Supreme Court’s judgment in this case directed the government to take action against those who contemplated to steal the mandate of the people and were instrumental to defeat the very purpose of the constitution.
Mr. Tanvir Ashraf Kaira said that the PPP had always took the stand and opposed the army’s role, directly or indirectly, in politics of the country adding the suggestions of the PTI Chief was against the consistent policy of the PPP.
He said that the PPP treated the army with great respect as defenders of the frontiers of the country and it was in pursuance of the same policy that the PPP leadership had been extending unwavering support to army in the fight against terrorism.

سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی پنجاب تنویر اشرف کائرہ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اس تجویز کو مسترد کیا ہے جسمیں انہوں نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے تحت انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کرائی جائیں جسمیں ایم آئی اور آئی ایس آئی کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ان کی اس تجویز کو حکومت اور سیاسی پارٹیوں کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے کیونکہ اسکے عملدرآمد سے دونوں اہم اداروں کے درمیان غلط فہمیاں اور شکوک وشبہات پیدا ہونے کا احتمال ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ انکی تجویز کو ماننے کا مطلب یہ ہے کہ پاک فوج کو اس فیلڈ میں الجھایا جائے جس سے معاشرے میں ایک بحث چھڑ جائے گی اور فوج کی ملک کے دفاع سے توجہ ہٹ سکتی ہے۔تنویر اشرف کائرہ نے کہا کہ آئین میں ایسے انتظام کی کوئی گنجائش نہیں اسکے علاوہ ایسا کرنے سے ملک میں ایک خطرناک رجحان پیدا ہو سکتا ہے جو ملک کے سیاسی نظام کے تسلسل اور ترقی کے لیے نقصان کا باعث بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے ذہن میں سیاست میں ایجنسیوں کے کردار کا اچھا تاثر نہیں ہے جیسا کہ اصغر خان کیس میں یہ ثابت ہوا کہ ایجنسیوں نے آئی جے آئی بنا کر عوام کا مینڈیٹ چوری کیا اور شہید بینظیر بھٹو کو شکست سے دوچار کیا اور نواز شریف کو جتوایا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ ان افسران کے خلاف ایکشن لے جو دستور کے مقاصد کو فیل کرنے کا باعث بنے۔تنویر اشرف کائرہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ فوج کی سیاست میں مداخلت کی مخالف رہی ہے اس لیے وہ پاکستان تحریک انصاف کی تجویز کی حمایت نہیں کر سکتی۔ تنویر اشرف کائرہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی فوج کی بحیثیت پاکستانی سرحدوں کی حفاظت کے ادارے کے طور پر بڑی عزت کرتی ہے اور اسی وجہ سے پارٹی کی قیادت فوج کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کھل کر حمایت کر رہی ہے اور کرتی رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں