No progress until underprivileged are empowered, says Prime Minister Raja Pervez Ashraf


LAHORE: Prime Minister Raja Pervaiz Ashraf Tuesday said that they have no row with anyone, and even the Pakistan People’s Party and Jamaat-e-Islami can sit together.
Addressing a mass wedding ceremony in which 50 couples tied the knot at the Governor House on Tuesday, the prime minister said the PPP politics and manifesto revolved around the downtrodden and the country’s riches were dependent on the welfare of the poor.
He said the impression that political parties and institutions were on a course of collision is not true.He said only the people had the right to give mandate to anyone and choose leaders of their choice. There is a need to rely on collective wisdom of all political parties and schools of thought to address problems being faced by the country.
Raja said a bleak picture in media about Pakistan is not an honest reflection as, he said the real face of Pakistan was not terrorism or extremism but a country enriched with peace-loving people and traditions.
The PM on the occasion presented Rs10,000 as a salami (wedding gift) to the couples. The ceremony was also attended by Federal Minister Manzoor Ahmed Wattoo, Federal Minister Changez Jamali, former MNA Samia Raheel Qazi, MPA and Chairperson Ameer Begum Welfare Trust Rubina Shaheen Wattoo, Baitul Maal Pakistan Chairman Zamurrud Khan, PPP (Centre) General Secretary Tanvir Kaira, Begum Musarrat Khosa and others.
Meanwhile, the PM also visited the residence of former president Supreme Court Bar Association (SCBA) Asma Jehangir and expressed condolence with her over the death of her mother.
APP adds: The prime minister said politics had also been misconstrued in the country, which he added, was meant for service to the masses only. “The PPP and the Jamaat-e-Islami (JI) share similar ideologies regarding service to the masses,” Raja said and added that such commonality could bring them closer.
Benazir Bhutto had a firm belief that it could lead to a prosperous Pakistan, he added. He said Pakistan was a beautiful land of traditions of self-sacrifice and service. The protection of human rights is imbibed in the culture of the country and the Punjabi Sufi poetry of Mian Muhammad Bakhsh teaches a message of protecting these rights at all costs, he added.

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے بدقسمتی سے دنیا میں غلط طور پر پاکستان کا چہرہ انتہا پسند اور دہشتگرد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے حالانکہ جذبہ ایثار و قربانی اور اجتماعی بھلائی کے کام ہمارے معاشرے کا اصل چہرہ ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستانیوں کی اجتماعی بہبود کی کاوشیں اور جذبہ قربانی سے معمور خوبصورت چہرے اور خوبصورت روایات کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ گزشتہ روز گورنر ہاو¿س میں امیر بیگم ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام 50جوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر ٹرسٹ کے سرپرست و وفاقی وزیر و صدر پیپلزپارٹی پنجاب میاں منظور وٹو، ان کی صاحبزادی رکن اسمبلی اور ٹرسٹ کی چیئرپرسن روبینہ شاہین وٹو، ایم ڈی بیت المال زمرد خان اور اپٹما کے سابق صدر گوہر اعجاز نے بھی خطاب کیا۔ ان کے ہمراہ سٹیج پر جماعت اسلامی پاکستان کی خاتون رہنما و سابق رکن قومی اسمبلی سمیحہ راحیل قاضی، بیگم مسرت لطیف کھوسہ، جہانگیر بدر، راجہ ریاض احمد، ثمینہ خالد گھرکی، تنویر اشرف کائرہ موجود تھے۔ تقریب میں وفاقی وزرائ، سینئر ممبران قومی و صوبائی اسمبلی پیپلز پارٹی کے عہدیداران و کارکنوں سمیت دولہا دلہنوں کے عزیز و اقارب نے بھی شرکت کی۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا اجتماعی بھلائی کے کام ہمارے معاشرے کا وہ چہرہ ہیں جس سے دنیا میں لوگ زیادہ واقف نہیں بدقسمتی سے انتہاپسندی اور دہشتگردی کو پاکستان کی پہچان بتایا جاتا ہے جو پاکستان کا اصل چہرہ نہیں ۔ انہوں نے کہا بلاشبہ پاکستان میں مختلف الخیال سیاسی جماعتیں ہیں اور ان کا اپنا اپنا منشور ہے لیکن منزل سب کی ایک ہے کہ پاکستان کو مضبوط و مستحکم جمہرریت بنانا ہے۔ انہوں نے سمیحہ راحیل قاضی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہاں پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی ایک سٹیج پر بیٹھے ہیں۔ پاکستان میں کوئی جھگڑا نہیں اور نہ ہی ہم نے کسی سے جھگڑا کرنا ہے۔
لاہور (کامرس رپورٹر) وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے ہمیں باہمی اختلافات ختم کر کے پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نکالنا ہے‘ جب پیپلزپارٹی نے اقتدار سنبھالا تو ملکی معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب تھی، بجلی کا شدید بحران تھا لیکن ہماری حکومت نے بحرانوں پر قابو پانے کیلئے ہر ممکنہ اقدامات اٹھائے اور اس میں کامیاب بھی رہے‘ آج ملک میں افراط زر کی شرح سنگل ڈیجٹ کے قریب ہے اور مالیاتی اور بجٹ خسارہ پر قابو پا لیا گیا ہے‘حکومت نے اپنے اخراجات میں نمایاں کمی اور صوبوں کے اختیارات میں اضافہ کیا ہے۔ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ صرف چاروں صوبوں کے اتفاق رائے سے ہی بن سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور چیمبر کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا امن و امان کی صورتحال بہتر بنانا، بجلی کی یکساں لوڈشیڈنگ اور نجی شعبے کا استحکام حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، توانائی کا بحران حل کرنے کے لیے کوئلے اور سولر انرجی کے بہت سے پراجیکٹس پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں فخر ہے ہم نے اپنے منشور کے 75فیصد پر عملدرآمد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کاروباری برادری کو یورپی ممالک کےساتھ تجارت بڑھانے کیلئے مراعات لے کر دیں گے۔ بجلی کا بحران صرف پاکستان میں نہیں بلکہ بھارت، بنگلہ دیش اور بھوٹان میں بھی ہے۔ ہم سے پہلے طاقتور حکومتیں کالا باغ ڈیم کیوں نہیں بنا سکیں؟ آج جمہوری حکومت ہے ہم نے چاروں صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے صوبوں میں ہم آہنگی پیدا کرنی ہے نفرتیں پیدا نہیں کرنی۔ انہوں نے مزید کہا مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے جو سوال اٹھائے ان کے تسلی بخش جوابات دیئے گئے‘ چاروں صوبوں میں مساوی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے ،ہمارا کسی سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں۔ وزیراعظم نے کہا صوبوں سے کوئی مسئلہ نہیں مشترکہ مفادات کی میٹنگ میں سب وزراء اعلی آتے ہیں ہم میں کوئی لڑائی نہیں ہے۔ ایسا نہیں کہ میں کشتی لڑ کر وزیراعظم بن گیا ہوں، ووٹ لے کر آیا ہوں، میں سیاسی ورکر ہوں مڈل کلاس سے آیا ہوں۔ ہمارا وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔ ہو سکتا ہےکہ ہم دوبارہ منتخب ہو کر آئیں یا کوئی اور آئے لیکن پاکستان نے انشاءاللہ قائم رہنا ہے۔ آپ توانا ہونگے تو معیشت توانا ہو گی۔ ہمارا کسی سے جھگڑا نہیں سپریم کورٹ ہماری ہے، مسلح افواج ہماری ہیں ہم سب مل کر ملک کی ترقی کے لئے کام کریں گے۔ انہوں نے کہا اگر کالاباغ ڈیم پر صوبوں کے مابین اتفاق ہو جائے تو حکومت اس کی تعمیر شروع کرنے کو تیار ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں