جیالے ڈٹ گئے ہیں اور وہ نظریاتی جنگ لڑنے کے لیے پوری طرح تیار ہو چکے ہیں: میاں منظور احمد وٹو

جیو شان سے میں پاکستان پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے بطور مہمان شرکت کی۔میاں منظور احمد وٹو نے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے جیالے ڈٹ گئے ہیں اور وہ نظریاتی جنگ لڑنے کے لیے پوری طرح تیار ہو چکے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں یہ بات سمجھ گئی ہیں کہ چاہے مارشل لا ہو یا جمہوری دور ہو انتخابات میں حصہ ضرور لینا چاہئے کیونکہ انتخابی عمل میں شریک نہ ہونا جمہوریت کی نفی کے مترادف ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ الیکشن کے زمانے میں انہی لوگوں کو آگے لایا جاتا ہے جو الیکشن لڑنا جانتے ہیںاور انتخابی عمل کو بڑے پیمانے پر منظم کر سکتے ہیں۔ میں چونکہ انتخابی مہم چلانے کا وسیع تجربہ رکھتا ہوں اس لیے پارٹی نے مجھے منتخب کیا ہے۔ میری پوری کوشش ہو گی کہ میں پارٹی کی توقعات پر پورا اُتروں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں میں اتار چڑھاﺅ آتے رہتے ہیں۔ کل کے دوست آج کے مخالف ہو سکتے ہیں اور آج کے مخالف کل کے دوست ہو سکتے ہیں۔ قائد اعظم کے بعد پاکستان میں اگر کوئی پاپولر لیڈر شپ ہوئی ہے تو وہ ذوالفقار علی بھٹو کی لیڈر شپ تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جس پر بہت سے مظالم ڈھائے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتیں آصف علی زرداری کے ساتھ چل رہی ہیںمیاں منظور احمد وٹو کا کہنا تھا کہ سیاست میں کوئی دشمنی نہیں ہوتی سیاسی اختلافات ضرور ہو سکتے ہیں۔ تمام پارٹیوں کو چاہئے کہ وہ کسی پر کیچڑ اچھالے بغیر سیاسی وضع داری قائم رکھتے ہوئے ایک دوسرے سے سیاسی اختلافات رکھیں۔ ہمارے ملک میں سیاست کو گالی بنا دیا گیا ہے حالانکہ سیاست ایک مقدس کام ہے۔عمران خان کے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ عمران خان اگلے انتخابات کے بعد کسی اور سیاسی پارٹی کے اتحادی بن جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں