اجتماعی شادیاں اور امیر بیگم ویلفیئر ٹرسٹ کا کردار- تحریر : نعمان قادر مصطفائی

گزشتہ دنوں مجھے چند ایک سماجی اور صحافتی تقریبات کے سلسلہ میں داتا کی نگری لاہور اور پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ جانے کا اتفاق ہوا لاہور میںمیاں منظور وٹو کی صاحبزادی روبینہ شاہین وٹو کی خصوصی دعوت پر اجتماعی شادیوں کے سلسلہ میں منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کی سعادت بھی حاصل کی تو آئیے آج اس اجتماعی شادی کی تقریب کا حال پڑھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔! باب العلم، صاحب ِ نہج البلاغہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بڑی خوبصورت بات کہی ہے ”تم سے کوئی نیکی کرے تو سب کو بتا ئو اگر تم کسی سے نیکی کرو تو کسی سے اس کا ذکر مت کرو ” باب العلم کے اس فصیح و بلیغ قول میں جو حکمت ، دانش ، گہرائی اور گیرائی ہے وہ اپنی جگہ ، لیکن یہ ضرور ہے کہ اس قول ِ فصیح کے اندر نیکی کی تشہیر کا پیغام ہمیں بہر حال ملتا ہے

ہم اخبار نویس لوگ زیادہ تر ایسی چیز کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں سے ہمیں ”لفافہ ” ملنے کی اُمید ہوتی ہے اور ہمیشہ بدی کی تلاش میں سر گرداں رہتے ہیں ، کہیں حُسنِ اتفاق اگر نیکی کا چشمہ نظر بھی آجائے تو اپنا دامن بچا کر نکل جاتے ہیں لیکن بعض قلم کار ایسے بھی ہیں جن کا مشن ہی یہی ہوتا ہے کہ نیکی کی قوتوں کا ساتھ دیا جائے اور نیکی کے یہ جزیرے ، فیض کے یہ اُبلتے چشمے خیر کی خیرات تقسیم کرتی یہ بستیاں اور فلاح کی میراث بانٹتی یہ جھُگیاں جہاں کہیں بھی قائم ہیں اِن کی خوب تشہیر کی جائے اور اِن لوگوں کی داستانِ زندگی سناتے رہیں جن کی بدولت یہ دُنیا قائم ہے اور جو حرص و ہوس کی منہ زور آندھیوں میں نیکی کا چراغ جلائے ہوئے اور شہ زور طو فانوں میں محبت و خدمت خلق کا بو ٹا اُگائے ہوئے ہیں وطن کے لُٹیروں اور راہبروں کے بھیس میںراہزنوں کا ذکر ہو چکا ، اب ہمیں اپنے قلم کی نوک کا رُخ ایسے روشن چہرہ انسا نوں کی طرف پھیرنا چا ہیے جن کے نام سے انسا نیت زندہ ہے اور محروم و محکوم و مظلوم انسا نیت کو جینے کا سلیقہ آیا ہے۔

کہتے ہیں کہ یہ کلجگ ہے ، یہ عصر ۔۔۔عصر پذیر ہے ۔۔۔۔۔یہ عہد بے چہرہ ہے ، یہ قحط الرجال کا دور ہے ، شمع بکف پگ پگ پروانہ وار گھومیں تو بے چہرہ دو پایوں کے اس تاریک جنگل میں کہیں ایک آدھ روشن چہرہ انسان سے ملاقات ہوتی ہے تا حدِ نگاہ ویرانوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور اُفق اُفق تا ریکیاں خیمہ زن ہیں ”ماہتاب نوش” راتوں اور” آفتاب خور” دنوں کی حکمرانی ہے بے چہرہ دو پایوں کے اس تاریک ہجوم میں ایک آدھ روشن چہرہ انسان ظلمتوں کے نرغے میں گھری صبح خنداں کی طرح منفرد اور کو فیوں کے محاصرے میں کھڑے مسلم بن عقیل کی طرح لائق رشک دکھا ئی دیتا ہے ایسے میں اگر کسی خوش بخت اور خوش طا لع شخص کی ملاقات کسی روشن چہرہ اور عالی دماغ انسان سے ہو جا تی ہے تو بلا مبالغہ وہ زندگی کی معراج کو پا لیتا ہے یہ ملا قات بلا اشتباہ حاصلِ زندگی قرار پاتی ہے ، عرصہ 7سال سے دو پا یوں کے اس تاریک جنگل میں ایک ایسا روشن چہرہ ، اعلی ٰ دماغ اور غنی مزاج شخصیت ایک عورت کے روپ میں اخوت ، محبت ، روا داری، خدمت خلق ، آپس میں دکھ سکھ بانٹنے کا جذبہ اور اُجالے تقسیم کرتی ہو ئی نظر آرہی ہے اس روشن اور پاکیزہ صفات کی حامل شخصیات کو دنیا روبینہ شاہین وٹو کے نام سے جانتی ہے جو امیر بیگم ویلفیئر ٹرسٹ کی سر براہی کا تاجِ خدمت خلق بھی اپنے سر پر سجا ئے ہوئے ہے امیر بیگم ویلفیئر ٹرسٹ نے اپنی ”پیدائش ” کے بہت ہی قلیل عرصہ میں 1500سے زائد گھرانوں کے غربت زدہ آنگن میں خوشیوں کے دیپ جلا کر تاریخ ساز کارنامہ سر انجام دیا ہے غربت کی لکیر سے بھی نیچے کی زندگی بسر کرنے وا لوں کے گھر وں میںجہاں بھوک ، ننگ اور مفلسی نے مستقل ڈیرے ڈال رکھے ہوں اور غربت ننگا ناچ رہی ہو وہاں پر اتنے کم عرصہ میں امیر بیگم ویلفیئر ٹرسٹ نے سینکڑوں گھرانوں میں مخیر حضرات کے خصوصی تعاون سے مسرت و خوشی کے ایسے پھول کھلائے کہ جن کی سُہانی خوشبوسے ان کے دل و دماغ معطر و ترو تازہ ہو گئے ہیں اور اب وہاں غربت کی بجائے خوشحالی رقص کرتی نظر آ رہی ہے یہ سا را کریڈٹ امیر بیگم ویلفیئر ٹرسٹ کی چیئر پرسن روبینہ وٹو کو جاتا ہے جن کی زندگی بے پناہ ولولوں ، جاں گداز مرحلوں ، ایمان افروز جذبوں اور خدمت خلق کے کار نا موں سے ہمیشہ معمور رہی ہے خدمت خلق کی یہ گُڑ ھتی انہیں شروع ہی سے ملی ہوئی ہے گزشتہ دنوں گورنر ہائوس لاہور میں روبینہ شاہین وٹو کے ارادت مند جوق در جوق اور فوج در فوج اس خوبصورت پر وقار تقریب میں شرکت کی سعادت حاصل کرنے کے لیے پہنچ رہے تھے گورنر ہائوس لاہور میں تاحدِ نگاہ خوبصورت چہروں کی لہلہاتی فصلیںکھِلی ہوئی تھیںیہ خوبصورت ، پر وقار اوردیدہ زیب تقریب 50مستحق بچیوں کے سر پر دستِ شفقت رکھنے اور اُن کو بابل کی دہلیز سے عزت کے ساتھ رخصت کرنے کے حوالے سے ”اجتماعی شادی ” کے نام سے منعقد کی گئی تھی جس کا اہتمام امیر بیگم ویلفیئر ٹرسٹ نے کیا تھا سٹیج پر ایک طرف عروسی ملبوسات میں سجی خوبصورت دلہنیں اور ان کے ساتھ ان کے ہونے والے شوہرِ نامدار اپنے سروں پر خوبصورت ہم رنگ کے کُلے سجائے اور ہا تھوں میں گجرے پہنے سج دھج کے ساتھ نظر آرہے تھے نظم کی دُرستگی کے وقت ایک بیچارے دُلہا میاں کی دُلہن ہی گُم ہو گئی دُلہے میاں کی حالت دیدنی تھی ، سٹیج سیکرٹری نے اعلان کیا کہ ایک عدد دُلہن گُم ہو گئی ہے اس کا پیارا سا گول مٹول دُلہا بہت ہی پریشان تھا ، براہ ِکرم اگر دُلہن میری آواز سن رہی ہے تو سٹیج پر تشریف لائے ”اس موقع پر دُلہا میاں کو کہا گیا کہ بھائی !تو ابھی سے اپنی دُلہن گنوا بیٹھا ہے تو آگے زندگی کس طرح گزارے گا ؟خیر اس طرح کے اجتماع میں ایسا ہو بھی جا تا ہے ، خوبصورت دُلہنوں اور دیدہ زیب دُلہو ںسے اگلی طرف یعنی فرنٹ سیٹوں پر نمایاں مہمان تشریف فر ماتھے جن میں مہمان ِ خصوصی وزیر اعظم پرویز اشرف نمایاں تھے جبکہ گزشتہ سال ایسی ہی ایکسپو سنٹر جوہر ٹائون میں ہونے والی اجتماعی شادی کے مہمان ِ خصوصی ”سُو ٹِڈ بُوٹِڈ ”سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی تھے ،خیر دیگر میں میاں منظوراحمد وٹو ، روبینہ شاہین وٹو ،جہانگیر بدر ، ثمینہ خالد گھرکی ، ڈائریکٹر بیت المال زمرد خان ، راجہ ریاض احمد ، بیگم گورنر ،اور کثیر تعداد میں اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سمیت دیگر معزز مہمان بھی تشریف فر ما تھے ان میں زیادہ ترایسی شخصیات تقریب میں شامل تھیں جن کے مالی تعاون کے ساتھ ساتھ اخلاقی تعاون بھی شامل تھا چند ایک شخصیات مصروفیات کی وجہ سے شریک نہ ہو سکیں مگر انہوں نے نیک خواہشات کا پیغام اور پھولوں کے گلدستے و دیگر تحائف شادی شدہ جوڑوں کو ارسال کیے تھے امیر بیگم ٹرسٹ کی اس ننھی کونپل کو سر سبز و شاداب پودا بنانے میں صاحب ِ دست سخا سیٹھ عابد نے اہم کردار ادا کیا ۔

فرخ نواز چغتائی ،ملک ریاض حسین (بحریہ ٹائون )کا تعاون بھی ہر لحظہ شامل رہا ہے ، وزیر اعظم نے بھی اپنی جیب کو ہوا لگوائی اور ہر بچی کو 10 ہزار روپے کی سلامی بھی دی ، نکاح خواں نے اپنے مخصوص حجازی لہجہ میں ایک یتیم بچی کا نکاح پڑھ کر اجتماعی دُعا کرائی ، 50جوڑوں میں سے 45 جوڑے مسلمان تھے جبکہ باقی 5 جوڑے کرسچن تھے ان کا نکاح ان کے مذہب کے مطابق پادری نے پڑھایا ، مسلمان بچیوں کو قرآن پاک کے تحائف اور کرسچن بچیوں کو انجیل کے تحائف دیئے گئے ، دیگر تحائف میں مہمانانِ گرامی نے امیر بیگم ٹرسٹ کے لیے خوبصورت اور قابل تحسین جذبات کا اظہار کیا وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ نیکی کا یہ چراغ جس سے کئی ہزار چراغ جلنے ہیں اور بے نور گھروں میں اُجالے پھیلنے ہیں سے حکومت پاکستان کا خصوصی تعاون ٹرسٹ کے شامل رہے گا روبینہ وٹو ایک عورت ہونے کے ناطے گراں قدر خدمات سر انجام دے رہی ہیں ، یقیناََ دُکھی ، سسکتی ، تڑپتی انسانیت کی خدمت کرکے انہوں نے اپنی آخرت روشن کر لی ہے وزیر اعظم نے اپنے جذبات کے پھول بکھیرے اور ہر قسمی تعاون کا یقین دلایا روبینہ شاہین وٹو نے سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ٹرسٹ نے نا مساعد حالات کے با وجود یہ عزم کر رکھا ہے کہ ایسے گھر جہاں پر ہزاروں نہیں لاکھوں بیٹیاں وسائل نہ ہونے کی وجہ سے بوڑھی ہو رہی ہیں ٹرسٹ ان بیٹیوں کے سر پر دستِ شفقت رکھے گا اور اِن کو اکرام کے ساتھ عروسی جوڑا پہنا کر رُخصت کرنے کا اہتمام کرے گا اور ان کے تاریک زدہ آنگن میں خوشیوں کے چراغ جلائے گا ٹرسٹ اب تک1500 سے زائد بچیوں کی با عزت رُخصتی کا فریضہ سر انجام دے چکا ہے اور ہر سال 500بچیوں کی رخصتی کو ممکن بنائے گا اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”بچے دو ہی اچھے ”نئے شادی شدہ جوڑے آ بادی کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے انہوں نے یہ بھی کہا کہ 99فیصد بر سرِ روز گار مختلف فیکٹریوں ، کار خا نوں ، ملوں میں کام کرنے والے محنتی لڑکے ہمارا انتخاب ہوتے ہیں تا کہ کل کلاں قوم کی بیٹی کے لیے مشکلات پیدا نہ ہوں۔

الحمد للہ اب تک جتنی بھی شا دیاں ہوئی ہیں کسی بھی جگہ سے ذرا بھر شکایت موصول نہیں ہوئی جوڑوں کا انتخاب والدین کرتے ہیں اور ان کے انٹر ویو میں خود کرتی ہوں اور فنکشن سے چند دن پہلے تمام جوڑوں اور ان کے والدین کو اپنے دفتر مدعو کر کے ان کو کھا نا بھی ٹرسٹ کی طرف سے دیا جاتا ہے اور ان کے نکاح کا بندوبست بھی ہو تا ہے جس میں علامہ صاحب نکاح پڑھاتے ہیں ہم نے اپنی تر جیحات میں تین چیزیں شامل کی ہوئی ہیں پہلے نمبر پر یتیم اور بے سہارا لڑکی یا لڑکا نمبر2غریب سے غریب تر نمبر 3ڈھلتی ہوئی عمر کی بچی کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

روبینہ وٹو کی باتیں فکر انگیز اور روح پرور ہیں اور انسانیت کی خدمت کے لیے عملی اقدا مات بھی وہ کر رہی ہیں بلکہ اس کے لیے وہ شبانہ روز مصروف ِ عمل بھی ہیں لیکن ہمارے ایوانِ صدر اور ایوانِ وزیر اعظم میں بیٹھنے والے حکمران غریبوں کے لیے کیا اقدا مات کر رہے ہیں ؟ایک عورت ہو نے کے ناطے سے محدود وسائل اور لا محدود مسائل کے ہوتے ہوئے گراں قدر کار نامہ سر انجام دینا حکمرا نوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کا فی ہے حکمران دِل لُبھا نے والی باتیں تو کر جاتے ہیں مگر دِل میں جھانکنے کی زحمت نہیں کرتے کہ کیا کیا داغ غریبوں کے دِل پر لگے ہوئے ہیں اور انہوں نے کیا کیا زخم سہمے ہوئے ہیں ؟ اہل ِ زر بے شک اپنی آسائش نہ چھوڑیں صرف آرائش و زیبائش سے باز آجائیں تو لاکھوں گھروں میں ٹرسٹ کے ذریعے خوشی کے دِیپ جل اُٹھیں گے اور کروڑوں آنکھوں میں چمک آ جائے گی ، ہمارے ارباب ِ اقتدار کے جوتے بھی سُرخ قا لینوں کے بغیر زمین پر نہیں لگتے کبھی انہوں نے غور کیا ہے کہ کتنی بیٹیاں ہیں جو با لوں میں چاندی آنے تک عروسی کے سرخ جوڑے کو ترستی رہ جاتی ہیں ؟آج ایک با ہمت خاتون نے مخیر حضرات کے تعاون سے 50بچیوں کے سر پر دستِ شفقت رکھ کر ان کو عروسی جوڑے میں ملبوس کرکے ان کی سوچ کے دریچوں میں پرورش پانے والے ار ما نوں اور من میں انگڑائی لینے والی خواہشوں کو پورا کر دکھا یا ہمارے اس نا ہموار معاشرہ میں عورتوں کی فلاح بہبود کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

مو جودہ حکومت کے عہد میں خواتین کے مسائل کے حل کے لیے خاطر خواہ اقدامات کئے جا نے چا ہئیں اگر قا نون سازی کا جائزہ لیا جائے تو 1961ء کے فیملی لاء ، حدود آرڈیننس 1979ء قا نون ِ شہادت 1984ء ، جہیز ایکٹ 1979ء کے علاوہ کہیں بھی خواتین کے حوالے سے قانون سازی نظر نہیں آتی ، جبکہ تقسیم ہند سے پہلے 1935ء میں بھارتی مسلم خواتین کے لیے مسلم فیملی لاز کا نفاذ عمل میں لایا گیا جس کی رو سے اسے اسلامی شریعت کے مطابق وراثتی حق دیا گیا ، گارڈین وارڈ ایکٹ 1940ء چائلڈ میرج ریسٹرنیٹ ایکٹ 1929ء ، ریزو لیشن مسلم میرج ایکٹ 1939ء بنائے گئے ، 1983ء میں پلاننگ کمیشن آف پاکستان نے پہلی بار چھٹے پانچ سالہ منصوبہ میں خواتین ڈویلپمنٹ کے امور کو شامل کیا ، 1989ء میں معاشرہ میں خواتین کے لیے جائز مقام کا تعین کر نے کے لیے سپریم کور ٹ کے ججوں کی سر براہی میں پہلا وومن انکوائری کمیشن بنایا گیا جس نے اپنی سفارشات 1997 ء میں پیش کیں جن پر بد قسمتی سے عمل در آمدنہیں ہو سکا ،پرویزمشرف کے دور میں کونسلر اور سینٹ و قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں 40ہزار خواتین کی تعداد موجود تھی اور آج بھی اچھی خاصی تعداد موجود ہے لیکن خواتین کے مسائل جوںکے توں ہیں عورت کو مسائل کی بھٹی سے نکال کر امن اور خوشحالی کی راہ پر نہیں ڈالا گیا قیام ِ پاکستان کے فوراََ بعد قا ئد اعظم نے بیگم سلمیٰ تصدق کو اقوام متحدہ بھجوانے کا فیصلہ کیا اور ان کو روانہ کرنے سے قبل فر مایا کہ” وہاں تم سے لوگ پوچھیں گے کہ آزاد اسلامی مملکت میں خواتین کو کیا ملے گا ؟ تو انہیں بتا نا کہ They will get the best of every thing انہیں ہر چیز میں سے بہتر چیز ملے گی” عہد حاضر کے جاگیر دار ، زردار ، سر مایہ دار تمن دار عورت کی تذلیل کرنا فخر سمجھتے ہیں قومی اور صو بائی اسمبلیوں میں زیادہ تر خواتین کا تعلق فیوڈل لابی سے ہے جو خواتین کو بنیادی حقوق دینے کے حق میں نہیں ، ممی ڈیڈی، فارن پیڈ و فارن فنڈڈ این جی اوز کی چھتر چھائوں تلے پرورش پانے والی یہ بیگمات جنہیں میں ”فارن فنڈز خور بھینسیں ” بھی کہتا ہوںمحض اپنا ”بھاڑا ” کھرا کرنے کے لیے تگ و دو کرتی رہتی ہیں مگر کر گسوں کے اس جہاں میں ایک ایسی شاہین صفت قوم کی بیٹی جن پر قوم کی مائوں ، بہنوں اور بیٹیوں کو ناز ہے اور بچے ، بڑے ، بوڑھے فخر کرتے ہیں۔

Nouman Qadir Mustafa Logo
Nouman Qadir Mustafa Logo

دیوانہ وار صبح و مسا خدمت انسانیت میں سر گرم ہے اور خواتین کو با عزت مقام دلانے کے لیے مصروف کار ہے ٹرسٹ کی بلا امتیاز رنگ و نسل اور بلا تفریق لسان و ملک روشن خدمات وطن عزیز کی ضرورت مند اور محتاج خواتین اور قوم کی بیٹیوں کے لیے چشمہ ہائے فیض کی حیثیت رکھتی ہیں حویلی لکھا ، وساوے والا ، بصیر پور ، دیپالپور ، پاک پتن ، ساہیوال ، ملتان ، قصور ، شیخو پورہ ، لاہور ، فیصل آباد ، گوجرانوالہ اور گجرات جدھر بھی نگاہ جاتی ہے ٹرسٹ کے لگائے ہو ئے خدمت انسانیت کے گُلاب کی خوشبو محسوس ہو رہی ہے ٹرسٹ کی سر براہ روبینہ وٹو تسبیح و سجادہ و دلق کی بجائے خدمت خلق کو سب سے بڑی عبادت تصور کرتی ہیں خدمت خلق ہی ان کی عبادت و ریاضت ہے ان کا سر مایہ محبت ہے ان کا اپنا حلقہ انتخاب ہو یا داتا کی نگری لاہور ، بلھے شاہ کی وادی ہو یا اسلام آباد کی خوشگوار فضا سمیت ہر جگہ قوم کی بیٹیوں کو بابل کی دہلیز سے با عزت رخصت کرنے کا یہ لا فانی اور آفاقی پیغام آج وطن عزیز کے درجنوں شہروں میں رحمت کے با دلوں کی طرح چھا چکا اور خوشبو کے کومل جھونکوں کی طرح پھیل چکا ہے واضع رہے کہ ہنی بال ، اسکندر و دارا ، ہلاکو ، چنگیز اور طغرل و سنجریٰ ”فاتح ِ عالم ” نہیں ہوئے فقر و درویشی کے سانچے میں دھلی محبت ہی درحقیقت فاتح ِزمانہ اور فاتح ِعالم ہو تی ہے محبت اور خدمت انسانیت ہی ٹرسٹ کا طغرائے امتیاز ہے روبینہ وٹو کی مثبت سوچ اور ٹرسٹ کی ٹھوس کار کردگی نے ثابت کیا ہے کہ اچھے بیج اگر سمندر میں بھی پھینک دیئے جائیں تو ٹاپو اُگ آتے ہیں خون ِ جگر سے آ بیاری کی جائے تو صحرائوں میں بھی لالہ زار لہلہانے لگتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عزم راسخ ہو تو خنجر کی دھار سے بھی مرہم ٹپکایا جا سکتا ہے ،،،آئیے ہم سب ٹرسٹ کی کامیابی کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس شجر سایہ دار کو دشمنوں کے گرم تھپیڑوں کی لو سے محفوظ رکھے ( آمین )۔
تحریر : نعمان قادر مصطفائی /فکرِ فردا

Source:

اپنا تبصرہ بھیجیں