مسلم لیگ (ن) کے نام نہاد شیروں کی مخالفت کے باوجود انتخابات سے قبل اتحادیوں کی حمایت سے سرائیکی صوبہ بنا کر رہیں گے: صدرآصف علی زرداری

ملتان: صدر پاکستان آصف علی زرداری نے جمعے کو سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے سینئر وائس چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی سے ان کے آبائی شہر ملتان میں ملاقات کی۔

ملتان ایئرپورٹ پہنچنے پر سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین، رکن قومی اسمبلی سید علی موسیٰ گیلانی، سید عبدالقادر گیلانی اور علاقے کے دیگر عمائدین نے صدر کا خیرمقدم کیا۔

صدر مملکت سے ملاقات میں سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کیلیے قومی اسمبلی میں بل پیش کرنے کی تجویز دی۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ قومی اسمبلی یہ بل منظور کرلے گی۔ تاہم یہ بل منظور نہ ہونے کی صورت میں بھی جنوبی پنجاب کے عوام کے مطالبہ کی مخالفت کرنے والے بے نقاب ہو جائیں گے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے اپنی دعوت  پرملتان شہر کا دورہ کرنے پر صدر آصف علی زرداری کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے جنوبی پنجاب کے علیحدہ صوبہ بنانے کیلئے عوام کو نچلی سطح تک متحرک کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

اس موقع پر صدر پاکستان نے کہا ہے کہ حکومت ایک طرف جنوبی پنجاب کے عوام کی سماجی و اقتصادی بہبود کے لئے کام جاری رکھنے اور دوسری طرف ان کی امنگوں کے مطابق ایک علیحدہ صوبے کے قیام کے لئے کوششیں جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہے۔  اس موقع پر صدر آصف علی زرداری نے یقین دہانی کرائی کہ الیکشن 2013ءسے قبل سرائیکی صوبہ بنانے کے لئے اہم پیشرفت کی جائے گی ا ور اس سلسلہ میں جلد سرائیکی بنک کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔ آن لائن کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے نام نہاد شیروں کی مخالفت کے باوجود انتخابات سے قبل اتحادیوں کی حمایت سے سرائیکی صوبہ بنا کر رہیں گے، انشاءاللہ آئندہ عام انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی

دورے کے موقع پر وفاقی وزراء مخدوم امین فہیم، سید خورشید شاہ، میاں منظور وٹو، نذر محمد گوندل اور دیگر ارکان پارلیمنٹ بھی صدر کے ہمراہ تھے۔

مسلم لیگ (ن) کے نام نہاد شیروں کی مخالفت کے باوجود انتخابات سے قبل اتحادیوں کی حمایت سے سرائیکی صوبہ بنا کر رہیں گے: صدرآصف علی زرداری” ایک تبصرہ

  1. یہی ہے ظالم زمانے کی ستم ظرفی کہ  اچہے لوگوں کی کمی کو برے لوگ پر کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں … مكارى اور موقع پرستی کو عظیم روایات کی جگہ دینے کی کوشش کرتے ہیں … سمجہتے ہیں کہ وقت کی غفلت میں وە اس مقام کو پالیں گے جو   صرف قربانیاں دینے والوں کو نصیب ہوتی ہیں …
    قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی جگہ گھٹیا اور نیچ ضیا نے لینے کی  کوشش کی …لیکن …  عبرت کا نشان بنا… کچھ  نے جعلی  مینڈیٹ سے شعبدە  بازی دکھائ  بدنام ہوے…
    اب ایک اور شخص کو یقین ہے کہ وە شہید رانی کے جانے سے پیدا ہونے والے خلا کو اپنی کم ظرفی  اور موقع پرستی سے پر کر پاۓ گا … اس موقعے سے فائدە اٹھانے کیلیے سب کچھ کرنے کو تیار ہے ..
    شائید اس کو اس اٹل حقیقت کا اندازە نہیں کہ شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جاتا… ان کےخون سے جلنے والی قربانیوں  کی مشاعل کبہی نہیں بجہتی   … یہ جوت سے جوت جلتی چلی جاتی ہے … شہید بھٹو کے جلائی ہوی مشاعل کو شہید رانی نے اس  مضبوطی تہامے اور روشن رکہا کہ قربانیوں کی نئی داستانیں رقم ہو گئیں … اسی طرح یہ مشاعل شہید رانی کے بعد  مرد حر آصف علی زرداری نے اپنی پوری قوت اور عزم  سے تہامے رکہا کہ دنیا حیران اور عش عش کر اٹھی … اور اب وقت آگیا ہے کہ …  ایک جوان …  پرعزم … باہمت … قربانیوں کی روایات کا حامی … عظیم تاریخ کا حامل …  جدوجہد اور ثابت قدمی کا امین … عوام سے عہدوفاء کا ضامن … عظیم عوامی ہستیوں کا وارث  … اُس عظیم مشاعل کو تہام کر اسی مشن پر قدم بڑھانے والا ہے … وہی قربانیاں دینے والا ہے…  جن کا وە بچپن سے ہی گواە  رہا ہے … اور جن کی داستان آگ اور خون سے لکہی گئی ہے… بلاول بھٹو زرداری پیچہے مڑ کر دیکہتا ہے  تو اسے  پشت در پشت جدوجہد اور قربانیوں کا لا متناہی سلسلہ نظر آتا ہے … تقدیر کا کھینچا ہوا راستہ  نظر آتا ہے جسے آکے بڑھانا ہی اس کا مقدر ہے … اسے آکے قربانیوں سے بھرا آک اور خون کا سمندر نظر آتا ہے کہ جس میں کودنا ہی اس کی منزل ہے … بلاول بھٹو زردارى کے ہاتھ میں قربانیوں کی مشاعل ہے …  اور عمران خان کے ہاتھ میں کریکٹ کا گیند

اپنا تبصرہ بھیجیں