پاکستان پیپلز پارٹی کے خوبصورت اوردلکش گلدستے کی تشکیلِ نو – ریاض حسین بخاری

121

میں یہ کالم عاشورہ محرم کے دن لکھ رہا ہوں ۔ واقع کربلا جو آج سے صدیوں پہلے وقوع پذیر ہوا تھا اورتب سے مذہبی عقیدت و احترام سے منایاجاتا رہا ہے اور عاشقانِ حسین ان کی قربانیوں کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ اگر یہ واقع رونما نہ ہوتا تو شائد اسلام جو پیارومحبت کا دین ہے اس میں قربانیوں کا رنگ اس طرح شامل نہ ہوتا اورکربلا کے بعد قربانی کی انمول مثالیں ہماری روایت میں شامل نہ ہوتیں۔ حسینؓ نے اپنی اور اپنے عزیزواقارب کی انمول قربانیاں دے کر ثابت کر دیا کہ ظالم حکمران کے سامنے کلمہ جہاد کہنا حق ہے اور اس حق کے لئے ڈٹ کر کھڑا ہو جانا چاہئے۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اس کا نتیجہ اس کے خلاف نکلے گا یا اس کے حق میں۔ انہوں نے اپنی انمول قربانیوں سے اسلام کو نئی زندگی دی اور ثابت کر دیا کہ حق کے لئے بولنا اور اس پر ڈٹ جانا ہی راہ راست ہے۔
میں جناب امام حسینؓ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا کیونکہ میرا قلم اپنے اندر اس کو زیر تحریر لانے کی سکت ہی نہیں رکھتا ۔ جناب حسینؓ کے لئے ایک شعر ہی بطور نذرانہ عقیدت پیش کر رہا ہوں۔
قتل حسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے کربلا کے بعد
موجودہ دور میں راہِ حق پر چلنے کی واحد مثال جو ملتی ہے وہ پاکستان پیپلز پارٹی میں ملتی ہے۔ اس پارٹی پر جب بھی زوال آیا چاہے ان کی وجوہات کچھ بھی ہوں ،سچی ہوں یا خود ساختہ لیکن اس پارٹی کو وقت کے یزیدو ں نے ہمیشہ تباہ و برباد کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی بھی یزید ی آمر اور ظالم حکمران اس پارٹی کو وقتی طور پر دبانے کے سوا کچھ نہ کر سکا اور یہ پارٹی باربار دبائے جانے کے باوجود ختم نہ ہوسکی اور ہر دفعہ گرنے کے بعد دوبارہ نئے جوش و جذبے اور پوری آب و تاب سے پاکستان کی عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بناتی رہی ۔ وہ ظالم حاکم ضیاء کے روپ میں ہو یا مشرف کے روپ میں انہوں نے اپنی تمام تر توانائیاں پی پی پی کو ختم کرنے میں لگا دی۔ مگر پارٹی کا راستہ جو حق و صداقت کا راستہ ہے پارٹی اس سے نہ ہٹی۔ کیونکہ عوام کے دلوں میں رہنا ان کے پیار و محبت میں اپنا سب کچھ قربان کر دینا اور پھر بھی اپنی جدوجہد جاری رکھنا ہی اصل سبق ہے جو واقع کربلا سے ہمیں ملتا ہے۔ پی پی پی ہرقسم کی سازشوں اور ظلم و ستم سہنے کے باوجود نہ صرف قائم و دائم ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں روز بروز نئی توانائی پیدا ہو رہی ہے اور انشاء اللہ بہت جلد ہمیشہ کی طرح پی پی پی کو قوم دوبارہ اپنے نجات دہندہ کے روپ میں دیکھے گی۔
میںیہاں یہ ماننے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتا کہ پارٹی کو موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا پڑے گا اور اس کے لئے ہر قسم کے کڑوے اور سخت فیصلے کرنا ہوں گے ۔ پارٹی میں نہ صرف نیا خون لانا ہو گا بلکہ ان کی خواہشات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پارٹی کو نئے خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔
یہاں میں بڑے فخر سے اس بات کا کریڈٹ پی پی پی کو دوں گا کہ اس کے چاہنے والے اور اس کے جیالے پارٹی کا ہر بُرے وقت میں ساتھ دینے کے لئے میدانِ کارخار میں اپنا پاؤں رکھ دیتے ہیں۔ یہ پیارو محبت ، دیوانہ پن ، جیالہ پن اور ولولہ صرف پی پی پی کے کارکنوں میں ہی پایا جاتا ہے اور یہ جیالے اب پہلے دن کی طرح اس وقت بھی پارٹی کو مشکل میں دیکھتے ہوئے اس کے پرچم تلے اکٹھے ہو رہے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ یہ جذبات ہماری نئی نسل میں اس شدت کے ساتھ نہیں پایا جاتا جو پارٹی کے پرانے جیالوں کے دلوں میں موجود ہے اور اس کا قصوروار بھی میں ان پرانے جیالوں کو ہی سمجھتا ہوں۔ جنہوں نے اپنی محبت اور عقیدت کو اس کی اصل روح کے مطابق نئی نسل کو منتقل نہیں کیا۔ جس وجہ سے موجودہ نسل پوری طرح پی پی پی کی طرف راغب نہیں ہو سکی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب بھی کسی نے پارٹی کو چھوڑا وہ لیڈر ہی تھا کارکن نہیں۔ جنہوں نے اس پارٹی کے تین رنگی پرچم کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم وقت کے جدید تقاضوں کو سمجھیں اور پارٹی کو جدید خطوط پر استوار کر کے اس کا اصل پیغام نوجوان نسل تک پہنچائیں اور انہیں اس چیز کا ادراک دلائیں کہ پی پی پی واحد پارٹی ہے جس نے ملک و قوم کے لئے بہت کچھ کیا ہے اور مستقبل میں بھی کرے گی۔ یہ پارٹی کارکنان کے دلوں میں تو بستی ہے لیکن اسے عوام کے دلوں میں بھی دوبارہ جگہ بنانا پڑے گی۔ پارٹی کے نئی تنظیم سازی سمیت ہر قدم کو دل سے تسلیم کرنا ہوگا۔
نئی تنظیم سازی سے یہ مقصد نہیں ہے کہ پرانے جیالوں کو بالکل نظر انداز کر دیا جائے اور اس کی کمان کلی طورپر نئی نسل کے حوالے کر دی جائے۔ یہاں میں محترم اعتزاز احسن صاحب (جن کا میں سب سے بڑا مداح ہوں )سے بصد عقیدت اختلاف کروں گا کہ پچاس سال سے بڑے لوگوں کو پچھلی لائنوں میں رکھ کر نئے لوگوں کو فرنٹ پر لانا چاہئے۔ ااعتزازا حسن صاحب نئے لوگ توانائی سے بھر پور ہیں تو پرانے تجربات کی بھٹی سے گزر کر کندن بن چکے ہیں۔ اگر یہ تجربات کا کندن ، وفاداری اور نئی توانائی اور جوش اکٹھے مل کر چلیں تو پارٹی کے لئے ایک بہت خوبصورت گلدستہ محبت اور عقیدت تشکیل پا سکتا ہے ۔ اعتزاز احسن صاحب سے معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ حکومت بھی ریٹائر کرنے کی مدت 60سال رکھتی ہے حالانکہ حکومت عوام کے ٹیکسوں سے ان ملازمین کو تنخواہ دیتی ہے اس لئے پارٹی قیادت سے میرا مطالبہ ہے کہ پارٹی کو نئے وقت کے تقاضوں سے ضرور ہم آہنگ کریں لیکن یہ ذہن میں رکھتے ہوئے کہ گلدستہ پی پی پی کی جڑیں اس کے پرانے وفادار کارکن ہیں تو نئے کارکن اس دستے کے پھول اور پتے ہیں۔ اس لئے اس وقت ہمیں پی پی پی کو دوبارہ ایک دلکش اور خوبصورت گلدستے کی شکل دینے کے لئے اس راہ پر چلتے ہوئے دن رات ایک کر دینا چاہئے۔ پارٹی کی نظر میں جو لوگ فعال ہیں ، قابلیت رکھتے ہیں، پارٹی کا درد رکھتے ہیں انہیں پارٹی کی تنظیم سازی میں دوبارہ شامل کیا جائے اور جنہیں پارٹی سمجھتی ہے ان سینئر لوگوں کو (جن سے پارٹی کو فائدہ ہو سکتا ہے ) کسی بہتر جگہ پر ایڈجسٹ کیا جائے۔ وہ ناکارہ نہیں ہے صرف ان سے مناسب انداز میں کام لینے کی ضرورت ہے ۔انہیں عزت دی جائے۔ پارٹی کے سچے کارکنان کو نظر انداز کرنے کا رویہ ختم ہونا چاہئے۔ اگر پارٹی عزت احترام ان سے کام لے تو وہ ہر گھر میں پارٹی کے لئے ایک پیغام بر کی حیثیت رکھیں گے ۔ ان کے لئے دل کا دروازہ کھلا رکھنے کی ضرورت ہے ۔ پارٹی کی عقیدت اور اس کے کلچر کو اس شعر میں بیان کر کے اجازت چاہوں گا۔
لپٹ کر پلٹا پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا اک یہی ہے بہانہ
پاکستان پیپلز پارٹی زندہ باد

بشکریہ
ریاض حسین بخاری
ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات
پی پی پی ملتان شہر

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں