بینظیر کی شہادت کا بدلہ جمہوریت کو مضبوط اور پارلیمنٹ کو طاقتور بنا کرلیا, پاکستان کو بچانے کےلئے سیاست میں آیا، صدر زرداری

صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ہم نام نہاد نہیں، قابل عمل جمہوریت چاہتے ہیں، بینظیر کی شہادت کا بدلہ جمہوریت کو مضبوط اور پارلیمنٹ کو طاقتور بنا کرلیا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی سے خطاب میں صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ میں نے ذوالفقار علی بھٹو، خان عبدالولی خان اور مولانا فضل الرحمان سے سیاست سیکھی۔ میں سیاست میں تب آیا جب مخصوص سوچ نے محترمہ بےنظیر بھٹو شہید کو ہم سے جدا کیا، میں پاکستان کو بچانے کےلئے سیاست میں آیا۔ بینظیر بھٹو کی شہادت نے مجبور کیا کہ ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالی جائے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی سے خطاب میں صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ میرا بیٹا بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کے نقش قدم پر چلنے کیلئے تیار ہے۔ ہمارے پاس چوائس تھی کہ آئندہ نسلوں کو سیاست میں داخل نہ کرتے لیکن میں خطرات کے باوجود اپنے اکلوتے بیٹے کو سیاست میں لایا۔ اُمید ہے کہ ہماری آئندہ نسلیں جمہوریت کی راہ پر چلتی رہیں گی۔ صدر زرداری کا کہنا تھا کہ ہم نے جیل کے اندر سے بھی مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف سے مفاہمت کی بات کی۔ ہم ہمیشہ مفاہمت کی راہ پر چلتے رہنا چاہتے ہیں۔ ہم نے ملک کو مضبوط بنانا ہے۔ ہم نے خود کو اتنا مضبوط بنانا ہے کہ باہر کا دشمن ہمیں کمزور نہ سمجھے۔ ہمیں اختلافات کے باوجود انتہائی سطح تک نہیں جانا کیونکہ ہم نام نہاد نہیں بلکہ قابل عمل جمہوریت چاہتے ہیں۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے پاس سوائے امن و امان کے ہر چیز موجود ہے۔ ہم نے امن و امان کیلئے خیبر پختونخوا کی استعداد کار میں اضافہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں امن قائم کرنے کیلئے پولیس، فوج اور عوام نے بےپناہ قربانیاں دی ہیں۔ انھیں قربانیوں کی بدولت ہم آج یہاں کھڑے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسی طرح آگے بڑھیں تاکہ ملک میں جمہوریت مضبوط ہو کیونکہ جمہوریت کی مضبوطی ملک کے مفاد میں ہے۔ ہمیں جہالت کی سوچ کا مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے صوبوں کو مضبوط اور خودمختار بنایا۔ اب صوبے خود کو اسلام آباد کے قریب سمجھتے ہیں۔ اپنے خطاب میں صدر آصف زرداری نے کہا کہ جمہوریت کے ذریعے مخصوص سوچ کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ہم نے مخالفت کے باوجود سیاسی نظام کو مستحکم بنایا ہے۔ اگر جنرل کو وردی اتارنے پر مجبور نہ کیا ہوتا تو آج حالات کچھ اور ہوتے۔

صدر زرداری نے کہا کہ انہوں نے اس سوچ سے جیل کاٹی کہ یہ بھی ایک عبادت ہے اور جیل میں رہتے ہوئے بھی ہمیشہ مفاہمت کی بات کی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسی طرح چلتے ہوئے جمہوریت کو مضبوط کریں۔ صدر کا کہنا تھا اسمبلی کا پانچ سال مکمل کرنا بالیدگی کی نشانی ہے کیونکہ اصل انقلاب جمہوریت سے آتا ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین پر ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص سوچ کے لوگ قاضی حسین احمد جیسے لوگوں کو بھی برداشت نہیں کرتے، علماء پر دہشت گردوں کے حملے ہو رہے ہیں۔ دہشت گردوں کی سوچ سے پاکستان کو بچانا ہے۔

صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ میری نیت میں فتور نہیں تھا، اس لئے اختیارات پارلیمنٹ کو دیئے، خیبرپختونخوا اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری کا کہنا تھا کہ انقلاب جمہوریت سے آتا ہے، جمہوریت کے پانچ سال مکمل کرنا بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جمہوریت اور پارلیمنٹ نہ ہوتی تو جنرل وردی نہ اتارتا، اگر ایک جنرل کو وردی اتارنے پر مجبور نہ کرتے تو ملک کا کیا ہوتا۔ ہم سب آپس میں ہم آہنگی پیدا کرلیں تو دشمن نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ صدر زرداری نے مزید کہا کہ خیرپختونخوا میں گیس اور پٹرولیم سمیت تمام قدرتی وسائل موجود ہیں، انہوں نے کہا کے امن و امان کے سوا صوبے کے پاس سب کچھ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف فوج، رہنماؤں اور عوام نے بہت قربانیاں دیں۔ اختلاف ہر جگہ ہوتا ہے ہمیں مثبت سوچ رکھنی چاہیئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں