JIT should be constituted in consultation with Dr. Qadari: Mian Manzoor Wattoo.‏

DSC_0340
Pakistan Peoples’ Party cannot withstand with the re-visiting of undemocratic set up in the country as it has inflicted irreparable looses to the country and the PPP alike, said Mian Manzoor Ahmed Wattoo while talking to office bearers and workers of the Party hailing from Lahore.
He said that Zulifiqar Ali Bhutto and Benazir Bhutto were assassinated during the times of dictatorship in the country adding the country was also dismembered during the same type of repressive political system.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo said that democracy was non-negotiable for the PPP and it was for this reason that it accepted the results of the 2013 elections for the sake of the continuity of the political system despite its serious reservations on the impartiality of the elections.
He maintained that the nation owed to Shaheed Benazir Bhutto for the dividends of democracy today because she played a decisive role in the negotiations with General Musharraf leading to the restoration of democracy.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo reiterated that the PPP was not in favour of change of government through sit-in politics because it would set a bad precedent to hurt democracy in the country for all times to come. The rules of change of government are clearly defined in the constitution and the PPP will not endavour to deviate from.
He urged upon the government to accept the demands of Imran Khan regarding the investigation of allegations of rigging through the Supreme Court Judicial Commission adding he had shown flexibility in his stance as he was not insisting on the resignation of the Prime Minister as the condition. It is important that the government should reciprocate his initiative in order to pave the way for ending the stalemate that has engulfed the country for so long, he added.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo urged upon the Punjab Government to constitute Joint Investigation team(JIT) to probe the Model Town incident in consultation with Dr. Tahir-ul- Qadari adding its reluctance would strengthen the impression that it wanted to influence the investigations.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo said that during his two and half years Chief Ministership not a single VIP or bureaucrat was sent abroad for medical treatment on the tax payers money because he had imposed ban on this.
He further said that he had also imposed ban on the extension of service of civil servants and again no extension was given during the entire period
He said that there was complete ban on the display of arms and he got arrested the workers of coalition Party who violated the ban at the Lahore airport. Similarly, the ban on use of loudspeakers, except for Friday Khutaba in Arabic and Azan, was complete and the enforcement was total throughout the province like the wall chalking.

میاں منظور احمد وٹو صدر پیپلز پارٹی پنجاب نے لاہور سے تعلق رکھنے والے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی طور پر بھی غیر جمہوری طاقتوں سے سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی اور ملک نے غیر جمہوری ادوار میں بڑے دکھ ، تکالیف اور نقصانات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو دونوں غیر جمہوری دور میں شہید ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشرقی پاکستان بھی غیر جمہوری دور میں بنگلہ دیش بنا۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ موجودہ جمہوری دور محترمہ شہید بینظیر بھٹو کی مرہون منت ہے جنہوں نے جنرل مشرف سے مذاکرات کر کے قوم کو آمریت سے نجات دلائی۔میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ حکومت پنجاب کو ڈاکٹر طاہر القادری کی مشاورت سے جوائنٹ انویسٹگیشن ٹیم تشکیل دے کر اس مسئلے کو فورًا حل کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب کی اس ضمن میں ہٹ دھرمی سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حکومت اپنی بنائی ہوئی جے آئی ٹی ٹیم پر اثر انداز ہونا چاہتی ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ حکومت کو عمران خان کے مطالبے کو تسلیم کر لینا چاہیے جسمیں انہوں نے سپریم کورٹ جوڈیشل کمیشن کے تحت انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے، اور اس دوران وہ وزیراعظم کے استعفیٰ پر وہ زور نہیں دیں گے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ عمران خان اپنی پہلی پوزیشن سے پیچھے ہٹے ہیں اور حکومت بھی اپنے رویے میں لچک دکھائے تا کہ قوم کو موجودہ غیر یقینی کے عذاب سے نجات دلانے کے لیے راہ ہموار ہو۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی دھرنوں کے ذریعے سے حکومت کی تبدیلی کی حمایت نہیں کر سکتی کیونکہ اسکی آئین اور قانون میں کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کل کو عمران خان کی حکومت ہو اور اسی طرح اسکو دھرنوں سے ختم کر دیا جائے تو پھر وہ کیسا محسوس کریں گے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ دھرنوں کے ذریعے حکومت کی تبدیلی ایک خطرناک رجحان ہو گا جس سے جمہوریت کو نا قابل تلافی نقصان ہو گا۔ میاں منظور احمد وٹو نے اپنے وزارت اعلیٰ کے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انکے ڈھائی سالہ دور میں کوئی افسر یا وی آئی پی بیرون ملک علاج کے لیے نہیں بھیجا گیا کیونکہ اس پر میر ی حکومت نے پابندی لگا دی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی افسر کو اس دوران سروس میں توسیع نہیں دی گئی۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ اسلحہ کی نمائش کی پابندی اس حد تک تھی کہ انہوں نے اپنے سیاسی حلیفوں کوبھی اس کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا۔ لاؤڈ سپیکر پر خطبے اور اذان کے علاوہ انکے استعمال پر سارے پنجاب میں پابندی تھی اور اس پر مکمل طور پر عملدرآمد بھی ہوا جسکی لوگ آج مثالیں دیتے ہیں۔ انہوں نے صوبے کے طول و عرض میں تجاوزات کا اسطرح خاتمہ کیا کہ کسی چڑیا نے بھی پر نہیں مارا لیکن موجودہ پنجاب کی حکومت نے تجاوزات ہٹانے کے لیے 14 لوگوں کو ہلاک کر دیا اور ملک کے لیے ایک بڑا سیاسی بحران پیدا کر دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں