PTI tsunami waves will settle soon: Mian Manzoor Wattoo

*PPP leader says no chance for removal of present govt through intimidation
DSC_0539
Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) is bound to become the victim of law of sustainability after November 30 because it cannot maintain the momentum of mobilisation for so long as there is no chance of the removal of the present government through their sit-ins, said Pakistan Peoples’ Party (PPP) Punjab President Manzoor Wattoo in a statement issued on Sunday.
He said that the climax of the PTI’s tsunami will be over sooner than later and the present tempo would suffer because it could not be continued for an indefinite period. It is natural that the PTI’s popularity will start receding and time will prove it right, he predicted.
He said that the meeting of PTI in Larkana recently would not make any difference as the support base of the PPP was intact despite the claims of the opponents.
He maintained that Khan would sink in isolationism because he had been undermining the politicians of all spectrums of the country.
Wattoo urged the government to engage the PTI in negotiations and seek out settlement on the basis of give and take on the demand of investigation of the election rigging through the Supreme Court’s Judicial Commission.
The PML-N and PTI rift has cost dearly to the country because the country’s image had taken the nosedive in the international community and the economy of the country had also been affected badly, he observed.
He said that the PPP was against the removal of the government through the politics of intimidation and coercion because the constitution did not allow such bellicose. Rules of succession have been clearly defined in the constitution, he pointed out.

میاں منظور احمد وٹو صدر پیپلز پارٹی پنجاب نے یہاں سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے چئرمین عمران خان 30نومبر کے بعد جلسے جلوسوں کا ٹیمپو کو برقرار نہیں رکھ سکیں گے اور اسی تناسب سے انکا سیاسی قد کاٹھ بھی کم ہونا شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اس لیے بھی صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ موجودہ حکومت انکے دھرنوں سے جانے والی نہیں ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ سونامی کی کلائیمیکس 30نومبر کے بعد واپس ہونا شروع ہو جائیگی کیونکہ انتخابی سطح کی یہ مہم غیر معینہ مدت کے لیے جاری رکھنا ممکن نہیں۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے حالیہ لاڑکانہ کے جلسے سے سندھ کی سیاست میں کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ سندھ کے لو گ بدستور پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے پیشینگوئی کی کہ عمران خان سیاسی تنہائی اور مایوسی کا شکار ہو جائیں گے کیونکہ وہ ملک کے اکثر سیاستدانوں کے خلاف ہیں اور انکے خلاف جلسوں میں غیر شائستہ زبان بھی استعمال کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ انہوں نے میڈیا کے خلاف بھی محاذ کھول رکھا ہے جسکی وجہ سے انکی سیاست پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔ میاں منظور احمد وٹو نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پی ٹی آئی سے مذاکرات’’کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کی بنیاد پر جلد شروع کرے اور سپریم جوڈیشل کمیشن کے ذریعے انتخابی دھاندلیوں کے انکے مطالبے کو تسلیم کرے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن)، دونوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ملک کی بڑی جگ ہنسائی ہونے کے علاوہ ملکی معیشت کو بھی بڑا نقصان ہوا ہے اور قومی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی دھرنوں کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کی مخالف ہے کیونکہ آئین اسکی اجازت نہیں دیتا۔ آئین میں حکومت کی تبدیلی کے قوانین بڑی واضح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے اور حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب جمہوریت کو خطرہ ٹل گیا ہے اور پیپلز پارٹی ایک موثر ترین اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں