بلدیاتی الیکشن صوبائی معاملہ مگر پنجاب حکومت عدالتی احکامات کی تعمیل کیوں‌نہیں کر رہی : کائرہ

بلوچ قیادت الیکشن میں بھر پور حصہ لے گی،تمام فریقین ابہام دور کرلیں الیکشن وقت پر اور صاف شفاف ہوں گے ق لیگ کے ساتھ الیکشن الائنس بنا چکے ،انتہا پسندی عالمی مسئلہ ہے :روزنامہ دنیا کوخصوصی انٹرویو:صحافیوں سے گفتگو

اسلام آباد (سعید منہاس)وفاقی وزیر اطلاعا ت ونشریات قمر الزمان کائرہ کا کہنا ہے کہ چاہے دہشت گرد ہوں یا کراچی اور بلوچستان کے حالات، انکی حکومت ہر حال میں صاف اور شفاف الیکشن وقت پر کرائے گی اور اس بارے میں تمام متعلقہ فریقین کو کسی ابہام میں رہے بغیر اب اپنی توانائیاں تیاری پر صرف کرنی چاہئیں ،مقامی حکومتوں کے انتخابات چونکہ ایک صوبائی معاملہ ہے اس لئے وفاقی حکومت کسی پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہتی مگر اس بات پر حیران ضرور ہے کہ عدالتوں کے واضح احکامات کے باوجود پنجا ب حکومت اس سلسلے میں کیوں حیل و حجت سے کام لے رہی ہے ؟ پیپلز پارٹی کی قیادت قاف لیگ کے ساتھ الیکشن الائنس بنا چکی ہے مگر ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ اس بارے میں ابھی بات چل رہی ہے ۔ نواز لیگ تو پہلے ہی اشارے دے چکی ہے کہ وہ جماعتِ اسلامی سمیت دیگر مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر انتخابات لڑے گی مگر ہم ابھی اپنی آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ ہم بلوچ عوام کی ناراضگیوں کو غلط نہیں کہتے مگر ہماری خواہش ہے کہ جب فوج جیسا ادارہ بھی ان کے ساتھ ہے تو وہ جمہوری دھارے میں شامل ہو کرآنے والے الیکشن میں اپنی من پسند قیادت منتخب کریں اور پھر اپنے مسائل کا وفاق اور دوسری اکائیوں کے ساتھ مل کر خود حل تلاش کریں۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے روزنامہ دنیا کو دئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔ قمر الزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت کا واحد علاج برداشت ہے کیونکہ بہتر منصوبہ بندی سے اس کے حملوں کا وقتی تدارک تو کیا جا سکتا ہے مگر جہاں انتہا پسندی ایک مہلک ہتھیار اور ملکی معیشت کے مساوی ایک پیسہ بنانے کی مشین بن چکی ہو وہاں اسکا تدارک حکومت اور عوام کو مل جل کر صبر اور تحمل سے کرنا ہو گا۔انہوں نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دی کہ وہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے ساتھ مل کر ملک کے نظامِ تعلیم کو مربوط بنانے کے لئے تعاون کریں تاکہ نہ صرف مدارس کے اندر دی جانے والی تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہمکنا ر کیا جا سکے بلکہ ملک میں چل رہے مختلف انواع کے نظاموں کو بھی ملکی ضروریات اور امنگوں کے مطابق بنایا جا سکے ۔ انتہاپسندی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس کی مثالیں دنیا کے تمام مذاہب میں پائی جاتی ہیں، ہمارے ہاں یہ مسئلہ پیدا کرنے میں پوری دنیا کی مہذب قومیں بھی شامل رہی ہیں جب انہوں نے افغان جہاد کے نام پر ہمارے فراخ دل اور آزاد خیال معاشرے میں مذہب کے نام پر لڑنے والی ایک غیر سرکاری فوج پیدا کر دی تھی اور جس سے مذہب کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرایا گیا، اور جب یہ مہلک ہتھیار کامیابی سے اپنا ہدف پورا کر چکا تو یہی ممالک اس خطرے سے نمٹنے کے لئے پاکستان کو تنہا چھوڑ کر چلے گئے ۔ اور جب یہ ممالک 9/11اور 7/7جیسے واقعات کے بعد ان سے لڑنے کے لئے واپس آئے تو ہم نے ان کا ساتھ دیا کیونکہ اب انتہا پسندی ایک مضبوط معیشت کا روپ دھار چکی ہے اور اسکا مقابلہ کرنا اکیلے پاکستان کے بس کی بات نہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کی قیادت اس بات پر محکم یقین رکھتی ہے کہ ہمارا رول ماڈل نبی پاک ﷺ دیا ہوا خاکہ ہے جس میں انہوں ﷺ نے مدینہ کی ریاست میں سے کسی کو نکالا نہیں بلکہ یہودیٰ و نصاریٰ کو بھی رہنے کا موقع دیا اور یہی بات تمام فرقہ ورانہ تنظیموں کو سمجھنا ہو گی کہ وہ ایک دوسرے کو ختم تو کر نہیں سکتے بلکہ انہیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر برداشت سے رہنا پڑے گا جیسا کہ افغان جہاد سے پہلے وہ رہا کرتے تھے ۔ بلوچستان کے ناراض قوم پرستوں حتٰی کہ انتہا پسندوں کو بھی حکومت نہ صرف مذاکرات اور عام معافی کی دعوت دے چکی ہے بلکہ ان سے یہاں تک بات کی گئی ہے کہ اگر حکومت سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے تو اپنی ناراضگیوں اور محرومیوں کے خاتمے کے لئے الیکشن میں حصہ لیں اور اپنی مرضی کی قیادت کو منتخب کر کے اپنے مسائل کا ایک جمہوری حل تلاش کر لیں۔ کیونکہ وہ تمام جماعتیں اور بلوچ لیڈر جنہوں نے کچھ غلط فہمیوں کی بنا پر 2008 کے الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا ان سب نے حکومت کو آنے والے الیکشن میں حصہ لینے کی یقین دہانی کرا دی ہے کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ انکے تمام مسائل کا حل آئینی حدود کے اندر رہ کر ہی ممکن ہے اس لئے اب ان تمام عناصر کو بھی ایک جمہوری حکومت کی اس پیشکش کا فائدہ اٹھانا چاہئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وفاق نے برسوں سے چلے آ رہے اس منطق کا خاتمہ کر دیا کہ وفاق سوبوں کے وسائل کھا جاتا ہے تو بلوچ انتہا پسندوں کے پاس ہتھیا اٹھانے کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا۔ سندھ کی مقامی حکومتوں کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ سندھ کی قوم پرست جماعتوں نے ایک ڈرامہ کرنے کی کوشش کی تھی جسے عوام مسترد کر چکے ہیں کیو نکہ ان کے نزدیک سندھ کے مقامی حکومتوں کے بل میں کوئی خرابی نہیں کیونکہ اگر پنجاب میں 15 کارپوریشنیں بن سکتی ہیں تو پھرسندھ میں کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا کہ وفاق کی خواہش ہے کہ صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کے الیکشن فوراََ کرائیں کیونکہ اب تو نئے قومی مالیاتی کمیشن کے تحت عملاََ 70 فیصد محاصل صوبوں کے پاس ہی جا رہے ہیں اور یہی تو وہ پیسہ ہے جس سے پنجاب میں خزانے میں پیسے آ گئے اور سندھ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کو بھی پہلے سے زیادہ رقوم منتقل ہوئیں مگر انہوں نے زور دیا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ صوبائی حکومتیں اب ان رقوم سے عوام کی فلاح کریں

Source: Roznama Dunya

اپنا تبصرہ بھیجیں