اصل مقابلہ وسطی پنجاب میں ہوگا:منظور وٹو

پنجاب میں پیپلزپارٹی کے نئے صدر منظور احمدوٹو نے آئندہ انتخاب پنجاب اسمبلی کی نشست پر لڑنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
منظور وٹو کے بقول اگر پارٹی چاہے گی تو وزارت اعلیٰ کے امیدوار بھی ہو سکتے ہیں۔
بی بی سی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے میاں منظور احمد وٹو کا کہنا تھا کہ ’ آئندہ انتخابات میں سندھ میں پیپلزپارٹی کامیاب ہوگی، خیبر پختونخواہ میں ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائیں گے، جنوبی پنجاب میں کلین سویپ کریں گے لیکن اصل لڑائی تین سیاسی قوتوں یعنی مسلم لیگ نون، تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی کے درمیان وسطی پنجاب میں ہوگی اور یہیں انتخابات کا فیصلہ ہوگا‘۔
منظور وٹو کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی سیاسی تاریخ یہی ہے کہ جب بھی تین طرفہ لڑائی ہوئی ہے تو اس کا فائدہ ہمیشہ پیپلزپارٹی کو ہی ہوا ہے اور پیپلز پارٹی ایسے مقابلے کے بعد کامیاب قوت کے طور پر ابھری ہے‘۔
’جب ہم اپنے کارکنوں کی قربانیوں اور جدوجہد کے ساتھ اپنی قیادت کے وژن کو لے کر آگے بڑھیں گے اور ووٹرز کے پاس جائیں گے تو ہمیں پذیرائی ملے گی اور لوگ ہمارا ساتھ دیں گے‘۔
ایک سوال کہ پنجاب میں ان کے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات اور جیالوں کے ساتھ ان کی ورکنگ ریلشن شپ کے حوالے سے بھی اچھا تاثر موجود نہیں، تو اس پر میاں منظور احمد وٹو کا کہنا تھا کہ وہ بات جس کا سارے افسانے میں ذکر تک نہیں اسے ہی مخالفین موضوع بحث بنائے ہوئے ہیں۔
’جب سے مجھے پیپلزپارٹی پنجاب کے صدارت ملی ہے لوگ بے پر کی اڑانے میں مصروف ہیں۔ چوہدری شجاعت حسین اور پرویزالہی سے میرا رابطہ ہے وہ ہمارے اتحادی ہیں اور ہر طرح سے ہم سے تعاون کر رہے ہیں ـ ہمارے درمیان ایک طریقہ کار طے ہے۔ چوہدری برادران کے صدر زرداری کے ساتھ گہرے مراسم ہیں اور میں بھی ذاتی طور پر بھی اس بات پر مکمل یقین رکھتا ہوں کہ ہمیں پنجاب میں مسلم لیگ ق سے مل کر چلنا ہے‘۔
’پیپلز پارٹی کے ورکروں ایم پی ایز اور ایم این ایز کو میں نے اپنی وزارت اعلیٰ کے زمانے میں بہت عزت دی ان کے کام کروائے انھیں نوکریاں دیں اور وہ یہ جانتے ہیں میں لوگوں کی عزت اور قدر کرنے والا شخص ہوں مجھے جیالوں کا مکمل اعتماد حاصل ہے بلکہ وہ میرے صدر بننے پر خوش ہیں کہ اب کوئی ایسا شخص آیا ہے جو پنجاب میں نون لیگ کا مقابلہ کرے گا‘۔
میاں منظور احمد وٹو کا کہنا تھا کہ ’جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ مسلم لیگ ن ہے۔ آئین کے مطابق جس صوبے کو تقسیم کرنا ہوتا ہے اس صوبے کی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے منظوری دے تو ہی نیا صوبہ بن سکتا ہے اور پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں اب ہم قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم لا رہے ہیں جس کے زریعے نئے صوبوں کی تشکیل میں قومی اسمبلی کا کردار بڑھایا جا سکے تاکہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنا کر وہاں کے عوام کی محرومیاں دور کی جا سکیں‘۔
نجاب میں انتخابی اتحاد کے لیے ہمارے کئی جماعتوں سے رابطے ہیں لیکن ابھی تفصیلات منظرعام پر نہیں لانا چاہتے تاہم جمعیت علمائے پاکستان نیازی گروپ کے ساتھ انتخابی اتحاد بنانے پر اصولی اتفاق رائے ہو چکا ہے تاہم ابھی پارٹی کی سطح پر اس کی تفصیلات طے کی جا رہی ہیں۔
انتخابات کے بعد حکومت بنانے کے لیے پنجاب میں کس جماعت سے اتحاد ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے منظور وٹو کا کہنا تھا کہ سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا۔ آج کے دوست کل کے دشمن اور آج کے دشمن کل کے دوست ہوسکتے ہیں ماضی میں مسلم لیگ نون کا ساتھ دیا ہے مستقبل میں بھی اتحاد ہوسکتا ہے اور عمران کے ساتھ چلنے میں بھی ہمیں کوئی مضائقہ نہیں ـ
اس سوال پر کہ کیا آئندہ وہ پنجاب سے انتخاب لڑنے کا اردہ رکھتے ہیں اور کیا انھیں اگلے دورانیے کے لیے پیپلز پارٹی کی جانب سے پنجاب میں وزارت اعلیٰ کا امیدوار سمجھا جا سکتا ہے اس پر میاں منظور احمد وٹو کا کہنا’پارٹی نے انھیں پنجاب کی صدارت کچھ سوچ کردی ہے۔ اگر پارٹی فیصلہ کرے گی تو وہ پنجاب اسمبلی کی نشست سے انتخاب میں حصہ بھی لے سکتے ہیں اور وزارت اعلیٰ کے امیدوار بھی ہو سکتے ہیں‘۔
Source: BBC Urdu

اپنا تبصرہ بھیجیں