پیپلز پارٹی کسان ،ہاری اور مزدور کی خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گی: آصف علی زرداری

DSC_0207

کسان ،ہاری اور مزدور کی خوشحالی پاکستان کی خوشحالی ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی انکی خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گی۔یہ بات شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے آج یہاں پیپلز پارٹی کسان ونگ سے باتیں کرتے ہوئے کہی ، جسکی قیادت نواب شیر وسیر صدر پنجاب پیپلز پارٹی کسان ونگ کر رہے تھے۔شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان میں کوآپریٹو فارمنگ کی اشد ضرورت ہے کیونکہ پاکستان میں زیادہ تر کسانوں کی لینڈ ہولڈنگ بہت کم ہے اس لیے کوآپریٹو فارمنگ چھوٹے کسانوں کے معاشی مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے زراعت میں شمسی توانائی کے استعمال کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس ضمن میں سندھ حکومت نے اقدامات کئے ہیں اور سندھ بینک اسکو عملی جامہ پہنانے کے لیے مالی اور فنی امداد کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کی کاٹن پالیسی اسطرح تھی، جس سے کپاس کی قیمت اسوقت تقریباً 5 ہزار روپے تھی اور کاٹن پالیسی کی وجہ سے پاکستان کی ٹیکسٹائل کی برآمدات 9ارب ڈالر سے بڑھ کر 14 ارب ڈالر ہو گئی تھی۔ اس سے قبل پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے کسان موجودہ حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں سے سخت تنگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاول کی قیمت کم ہونے کے باوجود خریدنے والا کوئی نہیں۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں باسپتی چاول کی قیمت تقریباً 2200 روپے تھی جو اب 1200 روپے کے قریب ہے اور پیڈی کی قیمت تقریباً 700 روپے ہے اسی طرح کپاس کی قیمت بھی جو کہ پیپلز پارٹی کے دور میں 5 ہزار روپے تھی اب کم ہو کر 2200 روپے رہ گئی ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت نے شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں پر 50 فیصدی سبسڈی کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اُسی حکومت نے زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے 8 روپے فی یونٹ بجلی کسانوں کو فراہم کرنیکا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جو کہ پیپلز پارٹی کی کسان دوست پالیسیوں کا مظہر تھا۔میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ انہوں نے اپنے وزارت اعلیٰ کے دور میں کوآپریٹو قرضوں پر ڈھائی فیصد مارک اپ فکس کیا تھا جو کہ کسانوں کے لیے بہت بڑی سہولت تھی۔نواب شیر وسیر نے اس موقع پر کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ کسان دوست جماعت رہی ہے جسکے دور حکومت میں انکے معاشی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا تھا۔ انہوں نے تجویز کیا کہ یونین کونسل کی سطح پر کسانوں کو ہر قسم کی سہولتیں میسر ہونی چاہئیں تاکہ کسان کاشتکاری پر پوری توجہ مرکوز کر سکیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ چاول، کپاس اور گنے کی سپورٹ پرائس کو فورًا بڑھایا جائے۔ اس موقع پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے نمائندوں نے شمسی توانائی کے استعمال اور زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق بریف کیا۔ اس موقع پر قمر زمان کائرہ، سیکریٹری جنرل تنویر اشرف کائرہ، جہانگیر بدر، چوہدری منظور، ندیم افضل چن اور سینیٹر ڈاکٹر سومرو موجود تھے۔ اجلاس میں کسان نمائندوں میں جنہوں نے شرکت کی، ان میں ناصر جاوید گھمن، ملک سکندر حیات اعوان، چوہدری طارق محمود سندھو، چوہدری مظفر علی، مقبول احمد، نصراللہ چوہدری، سہیل رضا گھمن، نذیر احمد خان، سید کلیم علی، اعجاز حسین چوہدری اور عبدالرزاق سوانہ موجود تھے۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں