پیپلز پارٹی کے 47ء یو م تاسیس پر سوشل میڈیا پنجاب کے ساتھ ایک دن – زاہد انور شاعر بھٹو

10850569_832470110145080_463338580_n
10840166_832470046811753_1908857988_o

تیس نومبر پیپلزپارٹی کے 47ء ویں یو م تاسیس پر سوشل میڈیا کے ساتھ ایک دن بلاول ہائوس لاہور میں گزارا ۔ محترمہ جہاں آرا ء وٹو انچارج سوشل میڈیا پنجاب کی خصوصی دعوت پر صبح 10بجے میں پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب آفس ماڈل ٹائون پہنچا ۔ بہت سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بلاول بھٹو زداری چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کی تصویر والی خوبصور ت بنیان پہنے نظر آئے ۔ جنید قیصر کوآرڈی نیٹر سوشل میڈیا پنجاب نے ایک بنیان پہننے کے لیے مجھے دی ۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے مجھے بلٹ پروف جیکٹ پہنا دی گئی ہو۔ سوشل میڈیا پنجاب کے نوجوانوں کا قافلہ ایک کوچ کے ذریعے پی پی پی کے یوم تاسیس پر شرکت کے لیے بلاول ہائوس بحریہ ٹائون لاہور کی جانب روانہ ہوگیا دو تین کاریں کوچ کے آگے جارہی تھیں جن پر بیٹھے نوجوانوں نے پی پی پی کے جھنڈے پکڑے ہوئے تھے جبکہ کوچ میں بیٹھے نوجوان مسلسل جیے بھٹو جیے بے نظیر کے نعرے لگا رہے تھے ان نوجوان جیالوں کے جذبے ولولے اور جذبات کو دیکھ کر میں 47سال کے ماضی میں کھو گیا ۔ جب ایسے لاکھوں نوجوانوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو بانی چیئرمین پی پی پی کو ویلکم کیا ۔ جب انہوں نے تاشقند میں اعلان تاشقند کی مخالفت کرتے ہوئے ایک ڈکیٹٹر جنرل ایو ب خان کے خلاف اعلان جنگ کیا اور پھر تاریخ میں اس وقت ان جیالوں پر کا نام سنہری حر وف میں لکھا گیا کیونکہ ان نوجوانوں جیالوں نے نہ صرف جنرل ایوب خان کو گھر جانے پر مجبور کیا بلکہ جنرل یحییٰ خان اور بعد میں آنے والے ایک محسن کش جنرل ضیاء الحق کو بھی پاش پاش کر دیا ۔ مگر اس کی پاداش میں ان جیالوں نے جو تکلیفیں مصیبتیں اور اذیتیں برداشت کیںاس کے چشم دید گواہ لاہور اٹک کے قلعے پاکستان بھر کی جیلیں ٹکٹکیاں اور موت کے پھانسی گھاٹ ہیں ۔ جہاں کئی سال گزرنے کے بعد بھی جیے بھٹو کی آوازیں آرہی ہیں ۔ بلاول بھٹو ٹیم کا اگر یہی جذبہ اور جوش رہا تو وہ دن دور نہیں جب پی پی پی پھر اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکیں گی۔ میاں منظور احمد وٹو صدر پی پی پی پنجاب داد تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے بہت دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے مارچ 2014ء میں سوشل میڈیا پنجاب کی بنیاد رکھی۔ جس کو ڈویثرن ضلعی اورتحصیل کی سطح پر فعال کرنے کے لیے اپنی بیٹی محترمہ جہاں آراء وٹو کو ذمہ داری دی گئی ۔ جنہوں نے نہایت محنت اور لگن سے اس اہم مشن کو مختصر عرصے میں پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔ آج پنجاب بھر سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جہاں آراء وٹو کی سرپرستی میں پاکستان پیپلزپارٹی کے کام پروگرام بلاول بھٹو کی مصروفیات بیانات اور تقاریر کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اپنا انٹرنیٹ اور فیس بک کے ذریعے پہنچا دیتے ہیں ۔
سیاسی مخالفین کے بیانات اور بے جا الزامات اور کردار کشی کا منہ توڑ جواب دینا بھی اس ٹیم کی ذمہ داری ہے جو سار ا دن ٹویٹر اور فیس بک پر نظر رکھے ہوئے ہوتے ہیں یہ ایک جنگ ہے جو لفظوں اور لہروں کے ذریعے لڑی جارہی ہے آج زمانہ اسی جنگ کا ہے جس کے لیے بہت قابل ذمہ دار اور تکنیکی سپاہیوں کی ضرورت ہے ۔ بلاول بھٹو ٹیم کے ان سپاہیوں کو میں نے بہت قریب سے دیکھا یہ سپاہی مجھے ایسے نظر آئے جیسے بہت سے سپاہی بھٹو شہید اور بے نظیر کے ساتھ ہوا کرتے تھے ان سپاہیوں اور جانثاروں میں ایک یہ بند ہ خاکسار بھی ہوا کرتا تھا جو آج بلاول بھٹو ٹیم میں شامل ہو کر ان نوجوانوں کے طرح ہی بڑھاپے میں کام کرنا چاہتا ہے ۔ میں نے سوشل میڈیا پنجاب آفس میں دیکھا کہ جنید قیصر جو کہ معروف شاعر دانشور نذیر قصیر کے صاحبزادے ہیں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک ماہر سپاہی کی طرح اپنی انگلیاں لیپ ٹاپ پر چلا کرپاکستان امریکہ یورپ یا دنیا کے کسی بھی ملک میں بیٹھے دشمن کا منہ توڑ جواب دے رہے ہوتے ہیں ۔ میں ان سپاہیوں کو دیکھ کر میاں منظور وٹو کو داد دیے بغیر نہ رہ سکا جن کی بردباری اور دور اندیشی کی بدولت پاکستان سوشل میڈیا کے سپاہی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔پاکستان پیپلزپارٹی کے یو م تاسیس لاہور میں منعقد کیا گیا ۔ مجھے بلاول ٹیم کے ہمرا ہ سوشل میڈیا کے ڈیسک پر بیٹھنے اور دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔ منجھے ہوئے نوجوان گلے میں لیب ٹاپ کا بیگ اٹھائے ہوئے یوں آرہے تھے جیسے کسی جنگجو فوجی نے کندھے پر راکٹ لانچر اٹھا یا ہوا ہو ۔ جوش اور تمتاتے چہروں کے ساتھ یہ نوجوان جیسے ہی ٹیبل پر بیٹھتے اپنی کٹ کھول کر لیب ٹا پ نکالتے اور ٹویٹر پر کام کرنا شروع کر دیتے اور کوئی مخالف مخالفت میں ٹویٹر کر دیتا تو اس کی تو شامت آجاتی ۔ ایک خاندان کی شکل میں بیٹھے یہ نوجوان مجھے بہت اچھے لگے محترمہ جہاں آراء وٹو جو کہ اس اہم شعبے کی انچارج ہے ان نوجوانوں کے پاس آکر ان کی حوصلہ افزائی کر تی رہی جبکہ ان کا اپنا لیب ٹاپ بھی ان کے سیکرٹری کے پاس ہوتاہے ۔ جہاں ضرورت ہو وہ بھی فلسطینی سرفروش لیلہ خالد کی طرح اس جنگ میں شریک ہوجاتی ہیں۔
اگر ایک محاذ پر میاں منظور احمد وٹو صدر پاکستان پیپلزپارٹی کی جنگ لڑ رہے ہیں تو دوسری جانب سوشل میڈیا کے محاذ پر ان کی صاحبزادی جہاں آراء وٹو دشمنوں کے بے جا الزامات کا منہ توڑ جواب دے رہی ہے اور پاکستان پیپلزپارٹی کے مشن کو منظر عام پر لا رہی ہے میاں منظور احمد ووٹو نے نہ صرف اپنی بیٹی بلکہ اپنے بیٹے کو بھی اس جنگ میں جھونک دیا ہے جب کہ وہ جانتے ہیں کہ اس جنگ کے کیا نتائج ہوتے ہیں ۔ اس کی راہوں کے مسافر یا تو جیل جاتے ہیں ۔ جلا وطن یا شہیدوں کی بستی نوڈیروں ۔

10624814_712796302160527_9164992621120067033_n

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں