Mian Manzoor Ahmed Wattoo condemns killing of PTI worker

1458471_469959393141821_987545366407681081_n
Mian Manzoor Ahmed Wattoo, President Punjab PPP, has condemned the killing of the PTI worker in Faisalabad today attributing it to the mismanagement of the Punjab government that seemed to have resorted to re-visiting the industrial city after the Model Town, Lahore, this year in which14 people were killed and ninety injured.
He urged both the parties to desist from the confrontational politics because of its serious ramification on the political system of the country. Their belligerence will push the country towards anarchy if they do not mend their ways, he predicted.
He said that all the circumstantial evidence suggested that the PML (N) leadership instigated its workers to take the PTI workers head on in Faisalabad with the intention to make them run way. But, the aggressive posturing of the PML (N) workers did not subdue the PTI workers adding it was the bankruptcy of the leadership’s acumen to create a volatile situation like that.
He observed that it was never in the interest of the ruling Party to resort to force against the workers of other Party adding their strategy to deal with the situation was totally wrong and would be rejected right across the country like of the Model Town goof.
The government’s best option is to diffuse the confrontation adding its instigation by them optimized the naivety of unimaginative proportion of the mandarins, he maintained.
They have no capacity to learn from their mistakes and are rather more inclined to repeating the same– simply analogous to shooting into their feet with their own guns, he added.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo warned that the politics of confrontation would prove as an exercise in futility and its undertakers would be held totally responsible if democracy was hurt in the country.
He urged the PTI leadership to adopt the recourse of the Parliament and the Court for the redressal of their grievances and should stop the politics of agitation for being dangerous to the political system and its evolution.

پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے فیصل آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکن کی ہلاکت کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے پنجاب حکومت کی لیڈرشپ کی اِس سال ماڈل ٹاؤن کے سانحہ کی حکمت عملی کی کڑی قرار دیا جس میں 14کارکن ہلاک ہوئے تھے اور تقریباً90 زخمی ہوئے تھے۔ انہوں نے دونوں پارٹیوں سے اپیل کی کہ وہ محاذ آرائی کی سیاست سے پرہیز کریں ۔ کیونکہ اس سے ہمارے سیاسی نظام پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سیاسی دشمنی ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جائے گی اگر انہوں نے ہوش کے ناخن نہ لےئے ۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ فیصل آباد کے حالات و واقعات اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حکومتی پارٹی نے اپنے کارکنوں کو ایک منصوبہ بندی کے تحت تحریک انصاف کے کارکنوں کے سامنے لا کھڑا کیا تا کہ انکو ڈرا دھمکا کر بھگا دیا جائے، لیکن ایسا نہ ہونے کی وجہ سے جھگڑا ہوا جس میں ایک قیمتی جان ضائع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سوچ قائدانہ صلاحیتوں کے دیوالیہ پن کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخالف پارٹی کارکنوں کے خلاف طاقت کا استعمال کبھی بھی حکومتی پارٹی کے حق میں نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ انکی حکمت عملی بالکل غلط تھی اور جسکی ماڈل ٹاؤن کے واقعہ کی طرح سارے ملک میں مذمت کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی سب سے زیادہ توجہ حالات کو ٹھیک کرنے پر مرکوز ہونی چاہیے کیونکہ حکومتی حلقوں کی طرف سے محاذآرائی کو ہوا دینا سب سے بڑی حماقت ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے افسوس سے کہا کہ حکومت نے ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے کی بجائے انکے اعادہ کرنے کے حق میں زیادہ نظر آتی ہے جو اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ اور عدالت کے ذریعے اپنی شکایات کا ازالہ کرنے کے لیے رجوع کرنا چاہیے اور ایجی ٹیشن کی سیاست کو اب خیر باد کہہ دینا چاہیے۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں