Asif Ali Zardari calls Mian Manzoor Ahmed Wattoo from Iran

DSC_0027
Former President and Co- Chairman, Pakistan Peoples Party Asif Ali Zardari, called Mian Manzoor Ahmed Wattoo, President Punjab PPP, yesterday night from Iran and discussed with him the political situation as obtaining in the country and affairs of the Party. It may be added that the Co- Chairman is now on tour of the brotherly neighbouring country, Iran.
According to the statement issued from the Party Secretariat here today, the Co-Chairman expressed his condolences with the bereaved family for the loss of the precious life adding that the both the parties should have exercised restraint to avoid the clash in Faisalabad in the interest of democracy as well.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo added that the Co- Chairman urged the agitating parties to pursue the politics of consensus because the radicalization of politics was immensely counter-productive for the political system in place in the country. It was the dire need of the country in the face of multiple challenges threatening our independence and way of life.
Mian Manzoor Ahmed Watoo further said that the Co- Chairman was extremely satisfied over the successful convening of the two-day All Pakistan Foundation Day Convention in Lahore, on November 30, and December 2, 2014, which was heavily attended by the office bearers and workers belonging to all parts of the country including G/B and Azad Kashmir.
Co- Chairman will come to Lahore again very soon to live here during which he will visit the various districts of the Province and meet the Party rank file at the gross root level.
Meanwhile, Mian Manzoor Ahmed Wattoo has welcomed the reported decision of the Jirga to approach the Supreme Court praying to constitute the Supreme Court Judicial Commission mandated to investigate the allegations of rigging in the 2013 elections. It is a wise and timely step of the Jirga in the face of the inflexible attitude of the PML (N) and the PTI who apparently seemed determined to fight the duel to the lamentable finish.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo observed that the politics of agitation and non-acceptance of the genuine demands by the government had already inflicted irreparable damage to the country, both at home and abroad, due to their limitless obstinacy. They cannot be allowed to hold the future of the nation as their hostage, he asserted.

سابق صدر اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کل رات گئے ایران سے میاں منظور احمد وٹو صدر پیپلز پارٹی پنجاب سے ٹیلی فون پر ملک کی سیاسی صورتحال کے علاوہ پارٹی امور پر بھی بات چیت کی۔ یاد رہے کہ شریک چیئرمین آجکل برادر اسلامی ملک ایران کے دورے پر ہیں۔ آج پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکریٹریٹ سے جاری ایک بیان کے مطابق شریک چےئرمین نے فیصل آباد کے سوگوار خاندان سے تعزیت کی اور کہا کہ پی ایم ایل (این) اور پی ٹی آئی دونوں کو جمہوریت کے مفاد میں بھی بڑی احتیاط سے کام لینا چاہیے تھا تاکہ فساد نہ ہوتا اور ایک شخص جاں بحق نہ ہوتا۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ شریک چےئرمین نے دونوں پارٹیوں پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد کی سیاست کی بجائے مفاہمت کی سیاست کا راستہ اختیار کریں کیونکہ تشدد کی سیاست آخرکار ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جائیگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مفاہمت کی سیاست وقت ، ملک اور جمہوریت کے لیے اشد ضروری ہے جبکہ ملک کو سنگین خطرات درپیش ہیں جس سے ہماری آزادی اور طرز زندگی کو خطرہ ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ شریک چیئرمین نے لاہور میں منعقدہ یومِ تاسیس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسمیں ملک کے تمام صوبوں سے بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے پیپلز پارٹی کے عہدیداروں اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شریک چےئرمین نے کہا کہ وہ لاہور میں دوبارہ قیام کے لیے آئیں گے جس دوران وہ صوبہ پنجاب کے اضلاع کے دورے کریں گے اور پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں سے یونین کونسل کی سطح تک ملاقات کریں گے۔ میاں منظور احمد وٹو نے جرگے کے اس فیصلے کو خیرمقدم کیا جسمیں اس نے ازخود سپریم کورٹ میں جانے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ عدالت عالیہ میں سپریم جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی درخواست دائر کی جائے جو کہ 2013 کی انتخابی دھاندلیوں کے الزامات کی تحقیق کا ذمہ دار ہو۔ میاں منظور احمد وٹو نے اس فیصلے کو صحیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ حکومت اور تحریک انصاف دونوں ہی میں ’’میں نہ مانوں‘‘ کی سیاست کے بعد اسکے علاوہ کوئی اور راستہ بچا نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں پارٹیاں تباہی کے انجام سے بچنے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان دونوں پارٹیوں کے ہاتھوں ملک کے مستقبل کو یرغمال نہیں بنایا جاسکتا۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں