Politics of intolerance will lead to political demise of politics in the country: Tanvir Ashraf Kaira‏

1959417_460777864059974_3712935093294000977_n
Tanvir Ashraf Kaira, Secretary General PPP, Punjab, has warned that the politics of intolerance of PML (N) and PTI will inevitably lead to the political demise of the politicians and the politics in the country to the utter frustration of the people of the country who want to lead their collective life in a democratic dispensation. He said this in a statement issued from here today.
He maintained that both the parties had proved that they were devoid of the democratic culture as they rejected the politics of reconciliation and regretfully were more inclined to the politics of confrontation.
He recalled that the former President Asef Ali Zardari completed the constitutional terms of five years despite the fact that the PPP did not have the majority in the Parliament. He took most of the political parties along as coalition partners as well as the stakeholders, he added.
He said that the PML (N) gave tough time to the PPP previous government but the Co-Chairman did not jettison the policy of reconciliation and braced their highhandedness with patience and fortitude.
He lamented that both the agitating parties were getting to each other throat even after inflicting huge overall losses to the country, and the image of the country had taken nosedive in the international community. But, their reckless engagement to the duel unto death is testimony to their skewed up ego that was beyond redemption.
He urged them to show some mercy to the people of Pakistan who had been undergoing an agony of uncertainty since this Tamasha
commenced a few months ago.
Tanvir Ashraf Kaira said that the vision of both the parties’ leaders was so short-sighted as it failed to comprehend the gravity of the challenges the country was confronted with, posing potent threat to the scrutiny and our way of life. Their conducting of country’s politics is raising the serious question of their capacity to lead the country in the testing times like these, he observed.
He observed that the people of Pakistan had fed up with their political brinkmanship and were giving serious thought of making them redundant on the political horizon of the country because enough was enough.

پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکریٹری جنرل تنویر اشرف کائرہ نے یہاں سے جاری ایک بیان میں متنبہ کیا ہے کہ عدم برداشت کی جاری سیاست ملک سے سیاست اور سیاستدانوں کے خاتمے کا باعث بنے گی اور ملک کے طول و عرض میں عوام میں مایوسی پھیل جائے گی کیونکہ پاکستان کے عوام جمہوری نظام چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)ا ور پاکستان تحریک انصاف دونوں جمہوری کلچر سے عاری ہوتے ہوئے مفاہمت کی سیاست کو مسترد کر رہی ہیں اور محاذآرائی کی سیاست پر عمل پیرا ہیں۔تنویر اشرف کائرہ نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زردار ی نے مفاہمت کی پالیسی کی بدولت پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت میں اپنی آئینی مدت پوری کی اسکے باوجود کہ پارٹی کے پاس پارلیمنٹ میں اکثریت نہیں تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آصف علی زرداری اکثر جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے اور انکو جمہوری نظام میں سب کو سٹیک ہولڈر بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ایم ایل (این) نے پیپلز پارٹی کی حکومت کو سخت اور بلاجواز تنقید کا نشانہ بنایا لیکن آصف علی زرداری نے انکی زیادتیوں کا صبر اور استقلال سے مقابلہ کیا اور مفاہمت کی پالیسی کا دامن نہیں چھوڑا۔ انہوں نے دونوں احتجاجی سیاسی جماعتوں کے رویوں پر اظہار افسوس کیا جو کہ ایکدوسرے سے دست و گریباں ہیں۔ اسکے باوجود کہ ملک کو سنگین خطرات ہیں لیکن وہ انکا ادراک کرنے سے غافل ہیں۔ انکی یہ نہ کررکنے والی سیاسی لڑائی انکے مائنڈ سیٹ کی عکاس ہے، جس میں بہتری کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔تنویر اشرف کائرہ نے ان جھگڑالو جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے عوام پر رحم کریں جو گزشتہ کئی مہینوں سے غیر یقینی کے عذاب میں مبتلا چلے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں سیاسی جماعتوں کے لیڈر وں میں دوراندیشی کا بڑا فقدان ہے کیونکو وہ صورتحال کی سنگینی کو سمجھ ہی نہیں رہے جس سے ملکی کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ انکی سیاست یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ ملک کو وہ قیادت فراہم کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے جس کی اسوقت ملک کو اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام انکی لڑائی کی سیاست سے سخت نالاں ہیں اور وہ سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں کہ انکو ملکی سیاست سے باہر نکال دینے ہی میں بہتری ہے۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں