شہباز شریف کے غیر ملکی مہمانوں‌کے لیے 2 کروڑ 30 لاکھ کے تحائف کی خریداری میں‌گھپلے

481330_3123980343897_898538364_n

تحائف اشتہارات دیئے بغیر خریدے گئے ،مرضی کی پارٹیوں سے کوٹیشن لی گئی ‘سرکاری ریکارڈ میں افسر کا کچھ پتہ نہیں: آڈٹ رپورٹ میں انکشاف
اسلام آباد ( رپورٹ رؤف کلاسرا) پنجاب کے ڈائریکٹوریٹ جنرل پروٹوکول میں صرف دو برس میں وزیراعلیٰ شہباز شریف کے غیرملکی مہمانوں کے لیے دو کروڑ روپے تیس لاکھ روپے کے سرکاری تحائف کی خریداری میں سنگین بدعنوانیوں کے سکینڈل کا انکشاف ہوا ہے ۔ سرکاری رپورٹ میں پنجاب حکومت سے کہا گیا کہ وہ معاملے کی انکوائری کرائے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کاروائی کی جائے ۔ جب پنجاب حکومت کے اس محکمے سے رابطہ کیا گیا تو افسران نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ انہیں وزیراعلی سیکرٹریٹ سے حکم دیا گیا تھا کہ وہ شہباز شریف کے غیرملکی مہمانوں کے لیے دو کروڑ روپے تیس لاکھ روپے سے زائد کے تحائف خرید لیں۔ انہوں نے وہ تحائف خرید کر وزیراعلی سیکرٹریٹ کے پروٹوکول افسر کے حوالے کر دیئے تھے ۔ تاہم ذرائع کے مطابق اس سے بڑا سکینڈل یہ ہے کہ ڈیپارٹمنٹ کو یہ پتہ نہیں کہ وہ پروٹوکول افسر کون تھا جس کے حوالے یہ دو کروڑ روپے کے تحائف کیے گئے تھے کیونکہ سرکاری ریکارڈ پر اس کا نام کہیں درج نہیں ۔ روزنامہ دنیا نے آڈیٹر جنرل کے لاہور آفس سے رابطہ کیا تو بتایا گیا کہ انہوں نے پنجاب حکومت کو پہلے ہی خط لکھ کر کہا ہے کہ وہ وہ اس سکینڈل کی تفتیش کرائیں اور ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی جائے کیونکہ ان کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ انہوں نے ان تحائف کی خریداری میں بدعنوانیاں کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا پنجاب کے اعلیٰ حکام سے ڈیپارٹمنٹ اکاونٹس کمیٹی کے اجلاس ہوا جس میں یہ معاملہ اٹھایا گیا تھا کہ وہ اس سلسلے میں ہونے والی خلاف ورزی کی انکوائری کرائیں ۔ روزنامہ دینا کو ملنے والی سرکاری دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ سروس اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے وزیراعلیٰ کے لیے دو کروڑ تیس لاکھ روپے کے تحائف خریدے اور اس کے لیے انہوں نے مسلسل قوانین کی خلاف ورزی کی جس سے شدید شکوک پیدا ہوگئے کہ ان تحائف کی خریداری میں شفافیت سے کام نہیں لیا گیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ قانون کے تحت پنجاب پروکیورمنٹ رولز کہتے ہیں کہ جس محکمے نے کوئی بھی چیز خریدنی ہوگئی وہ اس کا باقاعدہ اعلان کرے گا اور ہر سال کی علیحدہ خریداری کی جائے گی اور اس پروکیورمنٹ پلان کی کانٹ چھان بھی نہیں کی جائے گی۔ اس طرح ہر سال کی جو ضروریات ہوں گی انہیں باقاعدہ طور پر اخبار میں اشتہار دیا جائے گا اور پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی ویب سائٹ پر اس کا اشتہار بھی لگایا جائے گا اور اگر اس محکمے کی اپنی ویب سائٹ ہوگی تو پھر وہ اپنی ویب سائٹ پر بھی یہ اشتہار لگائیں گے تاہم اب انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈی جی پروٹوکول پنجاب نے جب دو سالوں میں تحائف خریدنے شروع کیے تو انہوں نے کل دو کروڑ تیس لاکھ روپے کے تحائف خریدے ، جب ان تحائف کی خریداری کا آڈٹ شروع کیا گیا تو پتہ چلا کہ اس میں بہت ساری بدعنوانیاں کی گئی ہیں۔ سب سے پہلے یہ انکشاف کیا گیا کہ پنجاب حکومت نے یہ تحائف اخبار میں کوئی اشتہار دیے بغیر خریدے تھے جو کہ پروکیورمنٹ رولز کی خلاف ورزی تھی اور نہ ہی پبلک پروکیورمنٹ اتھارٹی کی ویب سائٹ پر کوئی اشتہار دیا گیا تھا۔ اس طرح یہ انکشاف ہوا کہ پنجاب حکومت کے افسران نے مرضی کی پارٹیوں سے کوٹیشن مانگ کر یہ دو کروڑ روپے سے زائد کے تحائف خرید لیے ۔ اس طرح ان پارٹیوں سے بغیر کوئی مارکیٹ کا سروے کرائے بغیر تحائف ان کی دی ہوئی قمیت پر خرید لیے گئے ۔ اس طرح ان تحائف کے ساتھ کوئی price reasonability سرٹیکفیٹ بھی موجود نہیں تھے ۔

Source: Roznama Dunya

اپنا تبصرہ بھیجیں