حکومت کسان دشمن پالیسیوں کا جائزہ لے کر ان کو کسان دوست بنائے: میاں منظور احمد وٹو

DSC_0340

پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ کسان دشمن پالیسیوں کا جائزہ لے کر ان کو کسان دوست بنائے کیونکہ پاکستان کی 70فیصد آبادی کا ذریعہ معاش ’’ بالواسطہ یا بلاواسطہ‘‘ زراعت پر ہے۔ وہ آج موزے جنڈوال، ضلع اوکاڑہ میں پاکستان کسان اتحاد کے ایک اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ میاں منظور احمد وٹو نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ سانحہ مروٹ، ضلع ،بہاولنگر کے کسانوں کے خلاف ظلم بند کرے اور انکے خلاف بنائے ہوئے جھوٹے مقدمات فوری طور پر واپس لے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن کسانوں کے گھروں کو نقصان پہنچا ہے انکے ازالے کے لیے فوری مالی امداد کی جائے۔ پاکستان کسان اتحاد کے اجلاس میں ایک متفقہ طور پر قرارداد پاس کی گئی جسمیں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر آلو کی برآمد پر ایکسپورٹ ڈیوٹی ختم کرے۔ قرارداد میں مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ گنے کی قیمت 150روپے سے بڑھا کر 182روپے فی چالیس کلو گرام مقرر کی جائے تاکہ کسانوں کے معاشی مفادات کا کسی حد تک تحفظ ہو سکے۔ قرارداد میں مزید کہا گیا کیونکہ چاول کے کاشتکار اپنی فصل اونے پونے فروخت کر چکے ہیں اس لیے ان کسانوں کو فی الفور 5ہزار روپے فی ایکڑ سبسڈی دی جائے۔ اس سے قبل معززین نے حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں کوسخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومتیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ کسان دوست حکومتیں رہی ہیں۔پیپلز پارٹی کے دور میں زرعی ترقی بھی ہوئی اور کسان خوشحال بھی ہوئے۔ جن معززین نے اس اجلاس میں شرکت کی ان میں ملک محمد احمد، سینےئر وائس پریذیڈنٹ پاکستان کسان اتحاد، میاں احمد شجاء وٹو، سابق چےئرمین ضلع کونسل، میاں عاصم خان مانیکا، معظم خان وٹو، سابق ایم پی اے، ملک خضر حیات، سابق ناظم، حافظ محمد ارشد ، سابق ناظم، میاں محمد طفیل میتلا، میاں ریاض احمد ، ایڈووکیٹ، میاں محمد اسلم موہل، ملک ندیم احمد ایڈووکیٹ، میاں محسن سکندر ، ایڈووکیٹ، میاں اختر خان بھٹی اور میاں غلام محمد بودلا شامل تھے۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں