پاکستان پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس – ریاض حسین بخاری

10308083_754949451243368_3692556435504617266_n

پاکستان پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس ہر سال 30 نومبر کو پورے پاکستان میں روائتی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ پاکستان کے ہر شہرمیں اس سلسلے میں تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ کیک کاٹے جاتے ہیں ۔ شمع جلائی جاتی ہیں۔ غرضیکہ اس تاریخ کو جیالے اپنی ہر دلعزیز پارٹی کا یوم تاسیس بھر پور طریقے سے مناتے ہیں اور اپنے قائد جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ جس میں اسی عزم ، ولولے اسی جوش و جذبے اور اسی عہد کی تجدید کرتے ہیں جس میں حقیقتاًنئے پاکستان (تحریک انصاف کے نئے پاکستان کے برعکس ) کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے وعدے کی تجدید کرتے ہیں۔ جس نئے پاکستان کی تکمیل 1973ء کے متفقہ آئین کے ساتھ ہی مکمل ہو گئی تھی اور یہ تکمیل جناب ذوالفقار بھٹو شہید کی بنائی گئی پاکستان پیپلز پارٹی کے ہاتھوں ہی سر انجام پائی تھی۔ اس سال بھی پاکستان پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس اسی جذبے لیکن مختلف انداز سے منایا گیا۔
جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید ایک انتھک ، زیرک اور نڈر سیاست دان تھے جنہوں نے 30نومبر1967ء کو پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔ جس کا منشور یہ تھا۔
* اسلام ہمارا دین ہے۔
* جمہوریت ہماری سیاست ہے۔
* سوشلزم ہماری معیشت ہے۔
* طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں۔
پاکستان اپنے معرض وجود میںآنے کے تقریباً گیارہ سال بعد مارشل لاء جیسے کالے قانون کا شکار ہو چکا تھا۔ جو کہ پاکستان کے حقیقت بننے کے بعد اس کے بنیاد کے ہی مخالف اقدام تھا۔ پاکستان کی بنیاد اسلام اور جمہوریت پر رکھی گئی تھی اور ایک ایسی سیاسی جماعت کی ضرورت تھی جس کی بنیاد جمہوریت کے فلسفہ کو مد نظر رکھتے ہوئے بنائی گئی ہو۔ لیکن اس وقت کوئی ایسی جماعت وجود نہیں رکھتی تھی اور نہ ہی کوئی بظاہر ایسا رہنما نظر آتا تھا جو عوام کے حقوق کے لیے جرات اظہار رکھتا ہو۔ اس خلاء کو تعبیر 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے وجود میں آنے سے ملی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد پاکستان سوشلسٹ پارٹی (جس پر وزیر اعظم لیاقت علی خان نے پابندی لگا دی تھی) کے ارکان نے ڈالی تھی جس کا اصل مقصد سوشلزم کو سپورٹ کرنا اور صدر ایوب کی امریکہ نواز پالیسی کی مخالفت (خصوصاً مغربی پاکستان میں)کرنا تھی۔ ایوب خان کی مخالفت 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد معاہدہ تاشقند پر دستخط کرنے کی وجہ سے انتہاء تک پہنچی ہوئی تھی ۔ پھر ایک جمہوریت پسند ، سوشلسٹ رہنما ذوالفقار بھٹو شہید کی ایوب خان سے ناراضگی اور کابینہ سے علیحدگی نے اس نفرت کو مزید فروغ دیا اور بھٹو صاحب عوام میں آگئے اور اس کے ساتھ ہی سارے سوشلسٹ اور عوام دوست رہنما ان کے ارد گرد اکھٹے ہوگئے۔ نتیجتاً 30نومبر 1967ء کو لاہور میں ایک کنونشن منعقد ہوا جس میں تمام جمہوریت پسند اور سوشلسٹ رہنما اکھٹے ہوئے اور بعد میں لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کی رہائش گاہ پر بھٹو صاحب سے ملنے گئے جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی۔نوخیز پیپلز پارٹی میں قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کو پہلا چیئرمین منتخب کر لیا گیا اور اس کے منشور کا اعلان بھی کیا گیا ۔ اس منشور کو ایک بنگالی کیمونسٹ جے اے رحیم نے تحریر کیا اور 9دسمبر 1967ء کو اعلان کیا گیا۔
اس منشور کی بنیاد سوشلزم پر رکھی گئی تھی۔ 1968ء میں پارٹی نے ایک ہمہ گیر رابطہ عوام مہم کا اعلان کیا جس کا آغاز پنجاب سے ہوا۔ بھٹو صاحب کا یہ پروگرام براہ راست غربت کے مارے عوام کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا گیا تھا۔ اور اس میں مزدوروں ، کسانوں ، طلباء اور ہاریوں کے مسائل کو زیر بحث لایا جانا تھا۔ یہ پروگرام جاگیردارانہ ، سرمایا دارانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا راستہ تھا جس میں جاگیر داروں سے زمینیں لے کرکسانوں اور ہاریوں میں بانٹی جانی تھیں ۔ پھرساری ورکر کلاس اور مزدور تحریک اس پارٹی میں اکھٹی ہوگئیں۔ انہیں یقین تھا (اور ایسا ہی ہوا) کہ پارٹی اشتراکیت کو ختم کر دے گی۔
تمام نوجوان طالب علم رہنما اور اساتذہ (جو ایوب خان کے دس سالہ دور کے دوران بے حد اذیت ناک صورت حال سے دو چار رہے تھے) کو بہتر مستقبل کا یقین تھا۔ دیگر تمام حلقے (جو مارشل لا ء کا سامنا کرتے کرتے تھک چکے تھے) بھی پارٹی میں شامل ہوتے گئے۔ پارٹی کے منشور نے اقلیتوں کو بھی متاثر کیا اور وہ بھی پارٹی میں شامل ہوگئے۔ سوشلزم کی بنیاد پر لگایا گیا نعرہ روٹی، کپڑا اور مکان سب کے دلوں کا ترجمان بن گیا۔ اور پی پی پی پاکستان کی سب سے بڑی جمہوریت پسند جماعت کی حیثیت اختیار کر گئی۔پارٹی کے پروگرام اس کے ترجمان اخبارات (نصرت، فتح اور مساوات) میں شائع کئے جاتے تھے۔
پی پی پی کے وجود میں آنے کے بعد پارٹی نے غریب اور متوسط طبقے ورکر کلاس اور کچلے ہوئے عوام مغربی پاکستان میں پارٹی کو اپنا نجات دہندہ سمجھنے لگے اور بھٹو صاحب کی قیادت میں پی پی پی نے ایوب خان کی سخت مخالفت جاری رکھی اور اسی مسلسل اور انتھک تحریک کے نتیجے میں 1969ء میں ایوب خان کو مستعفی ہونا پڑا اور پھر ملک کو یحیٰ خان کے ایک اور مارشل لا ء کا سامنا کرنا پڑا جس نے دو سال کے اندر ملک میں انتخابات کا وعدہ کیا ۔ لیکن اس دوران پی پی پی مغربی پاکستان میں پانی جڑیں عوام میں مضبوط کر چکی تھی۔
1970ء کے پارلیمانی انتخاب میں پی پی پی نے پوری قوت کے ساتھ حصہ لیا اورمغربی پاکستان میں دائیں بازو کی رجعت پسند جماعتوں کو عبرت ناک شکست دی اور مشرقی پاکستان میں موجود ایک اور سوشلسٹ جماعت عوامی لیگ نے واضح کامیابی حاصل کر لی۔ عوامی لیگ نے 160نشستیں جیتیں اور پی پی پی نے مغربی پاکستان کی 138 سیٹوں میں سے 81پر کامیابی حاصل کی ۔
بھٹو صاحب مجیب الرحمن کی فطرت سے آگاہ تھے انہوں نے اسے وزیر اعظم ماننے سے انکار کر دیا۔ اور ملک میں دو وزیر اعظم بنانے کا مطالبہ کیا جسے مشرقی پاکستان نے قبول نہ کیا۔ جس کی بناء پر جناب بھٹو کو اپنے سب سے زیادہ با اعتماد ساتھی مبشر حسن کو مشرقی پاکستان بھیجنا پڑا جنہوں نے اسے بھٹو صاحب سے ملنے کا پیغام دیا۔ اور اس نے بھٹو صاحب کی آمد پر بھٹو صاحب سے ملاقات کا وعدہ کر لیا۔ دونوں کی طویل ملاقات ہوئی اور پھر ایک مخلوط حکومت بنانے کا فیصلہ کیا گیا جس میں بھٹو صاحب صدر پاکستان اور مجیب الرحمن نے وزیر اعظم ہونا تھا۔ اس صورتحال کا ملٹری کو بھی پتہ نہیں تھا۔ پھر بھٹو صاحب نے مجیب الرحمن پر اپنا پریشر بڑھایا کہ وہ جلد کسی نتیجہ پر پہنچیں کیوں کہ وہ صورت حال بھانپ رہے تھے۔ اسی دوران اچانک مشرقی پاکستان میں ملٹری آپریشن شروع کر دیا گیا جس نے دونوں صوبوں میں حائل خلیج مزید بڑھا دی۔ بھٹو صاحب نے اس صورت حال کو صحیح طور پر کنٹرول نہ کرنے پر یحیٰ خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ جس کی بنا ء پر بھٹو صاحب اپنے ساتھیوں اور مجیب کے ہمراہ بد نام زمانہ اڈیالہ جیل میں بند کر دیئے گئے ۔ جس کے بعد بھارتی مداخلت ہوئی اور پاکستانی فوج کو تاریخ کی بد ترین شکست ہوئی جس کے نتیجہ میں آخر کار 1971ء میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔
اسٹیبلشمنٹ نے یحیٰ خان پر دباؤ ڈالا جس کے تحت وہ مستعفی ہوگیا اور جناب بھٹو صدر پاکستان بنا دیئے گئے اورملک میں پہلی مرتبہ سوشلسٹ اورعوام دوست قوتیں اقتدار میں آگئیں۔ پہلی مرتبہ دنیائے عالم نے ایک شکست خوردہ پاکستان کو بھٹو صاحب کی ولولہ انگیز قیادت میں بڑی سرعت سے ترقی کرتے دیکھا ۔ نئی لیبر پالیسی ، ایٹمی بم پروگرام اور 1973ء کا متفقہ آئین دیا گیا۔ جس نے ملک کو پارلیمانی راہ پر ڈال دیا بعد میں ان کے خلاف سازش شروع ہوگئی اور بھٹو صاحب پاکستان قومی اتحاد کے ساتھ مفاہمت نہ کر سکے اور ملک میں سول نا فرمانی کی تحریک شروع کر دی گئی۔ 1977ء کے انتخابات ہوئے جس میں پی پی پی کو بھر پور کامیابی حاصل ہوئی لیکن پی این اے نے دھاندلی کے الزامات لگا کر تحریک شروع کردی۔ مذاکرات ہوتے رہے اور آخر کار کامیاب بھی ہوگئے لیکن ایک حریص اور قابل نفرت شخص ضیاء الحق موقع کی تاڑ میں تھا اور جس رات پی این اے اور پی پی پی کے درمیان معاہدے پر دستخط ہونے تھے اس لعین شخص نے بھٹو صاحب کی حکومت کا تختہ الٹ کر پھر ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور آخر کار بھٹو صاحب کو ایک قتل کے جھوٹے مقدمہ میں تختہ دار پر چڑھایا گیا جس فیصلہ کو دنیائے قانون نے عدالتی قتل قرار دیا۔
بھٹو صاحب کے بعد پارٹی کئی بار شکست و ریخت کے عمل سے گزری اور ان کے بعد بیگم نصرت بھٹو جہد مسلسل کے عمل سے گزرتی رہیں۔ کبھی محترمہ شہید کی قیادت میں پارٹی نے حکومت بنائی تو کبھی 17سیٹوں کے ساتھ اپوزیشن کا رول بھی ادا کرنا پڑا۔ مگر بی بی شہید کی کرشماتی شخصیت ہر بھنور سے سرخرو ہو کر گزرتی رہی۔ ملک بدری سے شہادت تک پارٹی نے کئی اندوہناک مراحل دیکھے ۔ مگر عوام کے دلوں سے پارٹی کی محبت ختم نہ ہوئی ۔ بی بی شہید کی شہادت کے بعد جناب آصف علی زرداری نے انتہائی مشکل حالات میں پارٹی کی قیادت سنبھالی ۔ 2013ء کے انتخابات میں پی پی پی کو ایک طے شدہ منصوبہ کے مطابق سندھ تک محدود کر دیا گیا لیکن یہ جناب زرداری کی فہم و فراست تھی یا تاریخ کے قابل برداشت قصے ان کے ذہن میں تھے کہ انہوں نے ہر قسم کے حالات کا صبر و برداشت سے سامنا کیا اور تمام تر تحفظات کے باوجود نواز حکومت کو تسلیم کیا ۔ یہی فہم و فراست تھی جس نے نظام کو بچایا مگر پارٹی اپنی ساکھ نہ بچا سکی۔ پارٹی نے ہمت نہ ہاری اور اپنی جد و جہد جاری رکھی اور اب ایک نوجوان سحر انگیز شخصیت کا مالک بلاول بھٹو زرداری کی صورت میں دوبارہ نئے جوش و جذبہ سے عوام کے دلوں میں اپنا تاثر مضبوط کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔
30نومبر2014ء کا سنتالیسواں یوم تاسیس اسی سلسلہ کی کڑی تھا جو کہ پہلی دفعہ ایک مختلف انداز میں منایا گیا۔ شہر شہر میں تقریبات منعقد کرنے کی بجائے بلاول ہاؤس لاہور میں مرکزی تقریب رکھ دی گئی جس میں پارٹی کی مرکزی قیادت جناب آصف علی زرداری کی زیر صدار ت شامل ہوئی یہاں جلسہ کرنے کی بجائے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے ساتھ ایک بڑی میٹنگ رکھی گئی جس میں جناب آصٖف علی زرداری صاحب نے بھی خطاب کیا اس تقریب میں جیالوں کا روائتی جوش و خروش نظر آیا جس میں نوجوانوں اور خواتین ورکرز کی بھی بڑی تعداد شریک ہوئی۔اس تقریب میں پارٹی کو نئے سرے سے منظم کرنے اور اسے مضبوط بنانے کے لیے پارٹی پروگرام سے شرکاء کو آگاہ کرکے اعتماد میں لیا گیا۔اور یہ یوم تاسیس کی تقریب اس نقطہ عروج کا آغاز ثابت ہوئی (انشاء اللہ) جس کی پیپلز پارٹی مستحق ہے۔ پی پی پی نے جس طرح 1973ء کا متفقہ آئین دیا اسی طرح اٹھارویں ترمیم کے ذریعے اس آئین کو اصل صورت میں بحال کیا اور اب اسی جذبے کے تحت جمہوری نظام کو بچانے میں مصروف عمل ہیں۔ یہ وقتی صعوبتوں کا دور بھی گزر جائے گا اور انشاء اللہ پاکستان پیپلز پارٹی بہت جلد اپنے عروج کو اسی طرح حاصل کر لے گی جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ اقبال کا یہ شعر پیپلز پارٹی پر سو فیصد درست ثابت ہوتا ہے۔

پلٹ کر جھپٹنا جھپٹ کر پلٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے ایک بہانا

کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے
چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر بے نظیر
ایک زرداری سب پر بھاری
عوام کے خوابوں کی تصویر بلاول بھٹو بے نظیر

ریاض حسین بخاری
ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات
پاکستان پیپلز پارٹی ملتان شہر

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں