Mian Manzoor Wattoo extends heartiest congratulations to Malala Yousafzai and Kilash Satyarthi

01_Kailash-Satyarthi-and-Malala-Yousafzay
Mian Manzoor Ahme Wattoo, President Punjab PPP, has extended heartiest congratulations on behalf of PPP, Punjab and on his behalf to Malala Yusuf Zai and Indian national Kilash Satyarthi for the most prestigious Nobel Peace Award for their outstanding contributions for the cause of education of the children.
He maintained that no nation could get rid of the bane of ignorance, terrorism, extremism, sectarianism and all forms of prejudices without quality education to their citizens.
He regretted that in Pakistan still only 2% of the GDP was spent on education which was peanut as compared to the severity of the challenge. It is the lowest budget allocation among the least developed countries of the world not to speak of developed countries, he pointed out.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo reminded that during his Chief Ministership he passed the Compulsory Education Act, 1994, that made all the parents to send school going children to schools failing which they had to face the law as Magistrates were empowered to register cases against them.
He said that he made learning of English as compulsory from the class one with a view to end the discriminatory education system. About fifty thousand graduates were recruited in the province to teach English in every school of Punjab, he added.
He pointed out that to ensure the progress in the education sector he appointed Additional Deputy Commissioners (Literacy), known for their meritorious repute in the CSP Cadre, keeping in view the rapid and seamless promotion of education in the province. Their status was almost equal to the Deputy Commissioner, he stated.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo further said that he notified Headmasters and Principals of schools as the most respectable personalities of the respective areas so that they could play their role effectively in the development of the schools in consultation with the notables of local community. They were given administrative and financial powers to take up the improvement of the educational institutions.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo deplored that the government in Punjab shelves his legislative and administrative reforms due to trivial political reasons. Had the government implemented his reforms there would have been no child without education in the province, he asserted.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo described the opening of Danish Schools in Punjab as flawed strategy because the opening of such schools in forsaken area was not good value for money. There are neither teachers nor the students, he observed.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo attributed the neglect of the sector due to the monkey business in the distribution of provincial financial resources by the Chief Minister. He demanded Provincial Finance Award Commission mandated to distribute financial resources on equitable basis among all the districts.
He pointed out that the reckless distribution of financial resources in the province was causing acute economic deprivation among the people of backward districts due to the transfer of their development funds to the few urban centers.
He observed that the Punjab government spent Rs. seventy billion on twenty eight miles long Metro Bus in Lahore at the expense of the other districts of the province. He should have spent this money on the education of millions of chidden enabling them to become an asset for the society than liability.

پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے پیپلز پارٹی اور اپنی طرف سے ملالہ یوسفزئی اور ہندوستان کے کیلاش ستیارتھی کو تعلیم کا نوبل انعام ملنے پر دلی مبادرکباد دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی کر سکتی ہے اور نہ ہی جہالت، دہشتگردی، انتہا پسندی، فرقہ واریت اور تعصبات کی دلدل سے نجات حاصل کر سکتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی تعلیم کی وہ ترجیح نہیں ہے جو کہ ہونی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک پاکستان صرف 2فیصدقومی آمدنی کا تعلیم پر خرچ کررہا ہے جو کہ قابل افسوس ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کے بیشتر ممالک سے بھی انتہائی کم ہے ۔ میاں منظو ر احمد وٹو نے کہا کہ انہوں نے اپنے وزارت اعلیٰ کے دور میں لازمی تعلیم کا قانون 1994 میں پاس کیا جسکے تحت والدین پر لازم تھا کہ وہ سکول جانے والی عمر کے بچوں کو سکول بھیجیں، جو والدین ایسا نہیں کرتے تھے انکے خلاف مجسٹریٹ مقدمات درج کر کے انہیں جرمانے کی سزا دینے کے مجاز بھی تھے۔میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ انہوں نے طبقاتی نظام کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری سکولوں میں انگریزی کی تعلیم پہلی جماعت سے لازمی قرار دے دی گئی تھی اور اسکے علاوہ 50 ہزار گریجوایٹس بھرتی کئے گئے تا کہ پنجاب کے تمام سرکاری سکولوں میں وہ انگریزی پڑھا سکیں۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ ضلع میں تعلیم کے فروغ کی نگرانی کے لیے انہوں نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (لٹریسی) مقرر کئے جو کہ سی ایس پی (CSP) کیڈر میں سب سے قابل اور اہل افسر تھے اور انکا سٹیٹس ڈپٹی کمشنر کے تقریباً برابر رکھا تا کہ وہ پوری دل جمی سے تعلیم کے فروغ کو یقینی بنائیں۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ انہوں نے تعلیمی مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے بڑے دوررس اقدامات کئے۔ سکول کے ہیڈ ماسٹر یا پرنسپل کو متعلقہ علاقے کا معزز ترین شہری کا سرکاری طور پر سٹیٹس دیا گیا۔ اسکے علاوہ مقامی کمیٹیوں کا بھی وہ سربراہ ہوتا تھا جسکے پاس انتظامی اور مالی اختیارات تھے تا کہ کمیونٹی کی مشاورت سے سکولوں میں ترقیاتی کام مکمل کر سکیں۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ موجودہ پنجاب کی حکومت نے جنگلوں میں دانش سکول کھول دئیے ہیں جہاں پر اساتذہ جانے کو تیار نہیں ہیں اور طلباء کی دلچسپی بھی خاطر خواہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے 28 میل کی میٹروبس پر 70 ارب روپے سے زیادہ خرچ کر دئیے، کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ وسائل تعلیم پر خرچ کرتے اور کروڑوں بچے زیور تعلیم سے آراستہ ہوتے اور وہ معاشرے کے لیے بوجھ کی بجائے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوتے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ اگر یہ حکومت انکی تعلیمی اصلاحات پر عمل کرتی تو آج سکول کی عمر کے تقریباً ڈھائی کروڑ بچے تعلیم سے محروم نہ ہوتے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت کے دور میں قومی مالیاتی ایوارڈ کمیشن کے تحت صوبوں کو بے پناہ مالی وسائل ملے ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ان وسائل کی پنجاب کے صوبے میں بندر بانٹ جاری ہے اور من پسند منصوبوں پر انکو بے دریغ خرچ کیا جا رہا ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے مطالبہ کیا کہ صوبائی مالیاتی ایوارڈ کمیشن ہونا چاہیے جو کہ تمام صوبائی اضلاع کے درمیان ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے۔ اس وقت ان مالی وسائل کو چند شہری علاقوں پر خرچ کیا جا رہا ہے اور دور دراز کے علاقوں میں ترقیاتی کام رُکے ہوئے ہیں جس سے وہاں کے لوگوں میں معاشی محرومی کا احساس شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں