وزیر اعلی پنجاب کے تمام تر دعووں کے باوجود گوجرانوالہ میڈیکل کالج تیسرے سال بھی اپنی اصل عمارت میں منتقل نہیں ہو سکا

481330_3123980343897_898538364_n

نہ ہی اعلان کے مطابق ایک ہزار بیڈ کے نئے ہسپتال کی تعمیر شروع ہو سکی ہے۔ میڈ یکل کالج کے طلباء آج بھی 7اہم شعبوں میں پروفیسر ڈاکٹرزکی خدمات سے محروم ہیں جبکہ اصل بلڈنگ شہر سے 15کلو میٹر دور ہونے کے باعث طلباء کو شدید تحفظات کا سامنا ہے۔
تفصیل کے مطابق وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے گوجرانوالہ میڈیکل کالج کی منظوری دینے کے بعد شہر میں سرکاری اراضی موجود نہ ہونے کی وجہ سے میڈیکل کالج کو ہوم اکنامکس کالج پسرور روڈ میں عارضی طور پر منتقل کرتے ہوئے17جنوری2011کو اس کا افتتاح کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ 1سال کے دوران گوجرانوالہ میڈیکل کالج کو اس کی اصل بلڈنگ واقع بلمقابل پنجاب یونیورسٹی گوجرانوالہ کیمپس میں منتقل کردیا جائے گا ۔مقامی انتظامیہ نے میڈیکل کالج کیلئے یونیورسٹی کے قریب100ایکڑ اراضی کا انتخاب کیا مگر اس وقت کے ڈی سی او بیرسٹر نبیل اعوان نے اس اراضی کو انتہائی مہنگی قرار دیتے ہوئے اس وقت کے ای ڈی او ہیلتھ گوجرانوالہ اور دیگر انتظامیہ کی سخت مخالفت کے باوجود اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے منصوبے کو یہاں سے موضع گوندالوالہ کے قریبی قصبے ڈوگرانوالہ میں منتقل کرتے ہوئے 40لاکھ ایکڑ کے حساب سے 50ایکڑ اراضی خریدی جس میں بعد میں توسیع کی گئی اور پنجاب حکومت نے اراضی کیلئے2ارب روپے کے فنڈ فراہم کرتے ہوئے یہاں تعمیر کا کام شروع کروادیا۔ اس فیصلے پر شعبہ صحت سے وابسطہ افراد اور طلباء کو خاصی مایوسی کا سامنہ کرنا پڑا ۔روزنامہ دنیا کی ٹیم کے موجودہ گوجرانوالہ میڈیکل کالج پہنچنے پر معلوم ہوا کہ یہ پراجیکٹ جس کو مسلم لیگ (ن) کے مقامی سیا ست دانوں نے اپنی انتخابی تحریک کا حصہ بنا رکھا ہے اور مقامی اارکین قومی و صوبائی اسمبلی سمیت گوجرانوالہ آنیوالے سیاست دان جن میں وزیر اعلی پنجاب کے بیٹے حمزہ شہباز، خواجہ سعدفیق اور دیگر شامل ہے اس میڈیکل کالج کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں ۔ مگر یہاں طلباء کے تیسرے بیج کی کلاسز کے اجراء کے باوجود شعبہ سرجری،میڈیسن،نیوروسرجری،پیڈز،گائینی، یورالوجی اور آرتھوپیڈی سیکشن میں پروفیسر ڈاکٹرز ہی موجود نہیں جبکہ ان کی جگہ اسسٹنٹ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے ہیں۔ میڈیکل کالج کو 2سال بعد سیکیورٹی گارڈ فراہم کیا گیا ہے مگر اس کے پاس حفاظت کرنے کیلئے ہتھیار موجود نہیں جبکہ کالج کے پاس ٹرانسپورٹیشن کیلئے اپنی بس بھی نہ ہے۔ دوسری جانب یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ نو تعمیر شدہ میڈیکل کالج میں سٹاف کالونی کے لیئے الگ سے جگہ نہیں رکھی گئی ۔ میڈیکل کالج کے طلباء نے روزنامہ دنیا کو بتایا کہ جہاں میڈیکل کالج کی نئی عمارت تعمیر ہو رہی ہے اس لے راستے میں ٹریفک کا بد ترین ہجوم ہونے کے باعث ان کو ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال تک پہنچنے کیلئے کم از کم1گھنٹہ درکار ہو گا جو کہ ان کیلئے پریشانی کا باعث ہے ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ میڈیکل کالج کے عقب سے سوئی گیس کی 18انچ موٹی پائپ لائن بھی گزر رہی ہے ۔یاد رہے کچھ عرصہ قبل فنڈ کی عدم موجودگی کے باعث 4ماہ کی تنخوائیں نہ ملنے پر 5اسسٹنٹ پروفیسرز نے یہاں سے تبادلہ کروانے کیلئے درخواستیں بھی دی تھی جس کے بعد مجبوراً ان پروفیسرز کے مطابات توحل کر دئے گئے مگر آج بھی گوجرانوالہ میڈ یکل کالج کو مستقل بنیادوں پر سہولیات کی فراہمی اور وزیر اعلی پنجاب کی توجہ کی ضرورت ہیں۔

Source: Roznama Dunya

اپنا تبصرہ بھیجیں