پشاور سانحہ پر پی پی سوشل میڈیا پنجاب کا احتجاج – زاہد انور

Picture
1384177_485520228252404_1958518127640120690_n

انسانیت کے دشمن وحشی درندوں نے ایک بار پھر پشاور کو سکول کے معصوم بچوں کے پاک او ر پیوتر خون سے رنگ دیا ۔جو اپنی آنکھوں میں ناجانے کتنے سہانے خواب سجائے اپنے گھروں سے خوشی خوشی سکول آئے ہونگے ان کی سینکڑوں ماؤں کو کیا خبر تھی کہ جن اپنے بچوں کو بڑے پیار اور محبت سے بنا سجا کر سکول بھیج رہی ہیں انہیں آج سکول سے ان پھولوں کی لاشیں اٹھانی پڑے گی ۔ آج نہ صرف یہ مائیں آنسووں بہا رہی ہیں جن کے جگر کے ٹکڑے ان سے چھن گئے بلکہ پاکستان بھر کی مائیں خون کی آنسووں رو رہی ہیں کیونکہ پشاور کے یہ شہید بچے پوری قوم کے بچے ہیں ان بچوں میں سے ناجانے کتنے بچوں نے قائد اعظم بننا تھا اقبال بنناتھااور فیض احمد فیض بننا تھا میں نے اپنی آنکھوں سے کئی ماؤں کو سڑکوں بازاروں چوراہوں پر آنسوؤں بہاتے دیکھا ۔ جب لاہور کی بہت سی مائیں بہنیں ان دہشت گردوں کے ہاتھوں پشاور میں قتل ہونے والے سکول کے معصوم بچوں کی ماؤں کے غم میں شریک ہونے کے لیے پریس کلب لاہور کے سامنے جمع ہوگئیں۔ سوگ کی کیفیت میں ایک ماں مبتلا ان ماؤں میں ایک ماں جہاں آراء وٹو بھی تھیں جو سراپا احتجا ج اور غم کی تصویر بنی ہوئی تھی ۔ ایک ہاتھ میں پلے کارڈ پکڑا ہوا تھا ۔ جس پر ان دہشت گردوں کی بربریت اور ظلم کی مذمت کی گئی تھی ۔ پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب کی سوشل میڈیا کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ان کے ہمراہ تھیں جہاں آراء وٹو نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پشاور کے سکول میں دہشت گردوں کے ہاتھوں بھینٹ چڑنے والے معصوم بچے میرے اپنے بچے تھے ۔ میں ان معصوم بچوں میں اپنے لخت جگروں مصطفی حسین اور عامر حیات کی شکلیں دیکھ رہی ہوں ۔ نہ جانے کب تک ہم مائیں معصوم بچوں کی لاشیں اٹھاتے رہے گی کب تک ہمارے شہر شہر نگر نگر جلتے رہے گے ، کب تک یہ سانپ ہماری آستینوں میں پلتے رہے گئے انہوں نے کہا کہ ہماری قوم کی بیٹی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ان دہشت گردوں سے جنگ کرتے کرتے خود شہید ہوگئی مگر آج ہم ہزاروں بے نظیریں ان دہشت گردوں کے خلاف آواز بلند کیے ہوئے ہیں ۔ ان موت کے سوداگروں کے خاتمے تک ہماری جنگ جاری رہے گی ۔ پشاور کی معصوم بچی ملالہ یوسف زئی کو انہوں نے مارنے کی کوشش کی کیونکہ وہ ان ظالموں کے سامنے تعلیم کی فروغ کے لیے کھڑی ہوگئی تھیں ۔ میں پشاور کے سکول میں شہید ہونے والے بچوں کو سلام پیش کرتی ہوں ۔ میں اس سانحہ کو کبھی بھلا نہ پاؤ گی ۔ جہاں آراء وٹو نے پاک فوج کے ان نوجوانوں کو بھی سلام پیش کیا جو اپنی جانوں پر کھیل کر ان دہشت گردوں کو کمین گاہوں سے نکال کر کیفر کردار تک پہنچا رہے ہیں ۔ سیاسی سماجی کارکن شاہدہ جبین بھی غم کی تصویر بنی ساتھ کھڑی تھی بیشک یہ احتجاج ضروری ہے مگر صرف احتجاج کی حد تک ۔ بلکہ بہت آگے بڑھنا ہوگا اور ان آستین کے سانپوں کو پاک دھرتی سے پاک کرنا ہوگا ۔ اُن لوگوں کا بھی احتساب کرنا ہوگا جواِن دہشت گردوں کی حمایت کرتے ہیں اور ان دہشت گردوں کی دہشت گردی کی کبھی بھی مذمت نہیں کرتے ۔ دوہرے چہرے والوں کے چہرے اب ننگے کرنے ہونگے جوان سے ڈائیلاگ کی بات کرتے ہیں وہ ملک کو تباہ کرنے کی بات کرتے ہیں ۔ دہشت گردوں اور قاتلوں سے کیا ڈائیلاگ ہوسکتے ہیں ۔
پشاور کے ان معصوم بچوں کے قتل پر جتنا بھی سوگ افسوس اور ماتم کیا جائے کم ہے۔

1508194_485518751585885_5737686619941775469_n

Mian Abdul Waheed Secretary Public Relation Punjab addressing to the protest.
Mian Abdul Waheed Secretary Public Relation Punjab addressing to the protest.

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں