#SalamBenazir: @MManzoorWattoo pays rich tribute to #SMBB

DSC_0584
DSC_0612

میاں منظور احمد وٹو صدر پیپلز پارٹی نے پاکستانی سیاسی قیادت کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے آخر کار پیپلز پارٹی کے اس موقف کی تائید کی ہے کہ دہشتگردوں کا صفایا صرف اور صرف طاقت کے استعمال کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی یوم شہادت کی بڑی تقریب میں تقریر کرتے ہوئے کیا جو پارٹی سیکریٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں آج منعقد ہوئی۔انہوں نے کہا کہ اسوقت قومی سیاست دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے متفق ہے اور اب حکومت وقت پر لازم ہے کہ وہ اب کسی تذبذب سے کام لئے بغیر پوری قوت اور حوصلے سے دہشتگردی کوختم کرنے کے لیے فوری عملی اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر یہ لیڈرشپ اس لعنت کو ختم کرنے میں ناکام ہوتی ہے تو یہ قوم کے لیے ایک بدقسمتی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ محترمہ نے لندن، دبئی یا کسی دوسرے ملک میں بیٹھ کر سیاست کرنے کی بجائے انہوں نے پاکستان کے غریب عوام کے درمیان رہ کر سیاست کرنے کو ترجیح دی اور شہادت پائی۔ انہوں نے کہا کہ پشاور کے شہداء بھی اسی مائنڈ سیٹ کا نشانہ بنے جنہوں نے محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کو لیاقت باغ راولپنڈی میں شہید کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور اسکی قیادت شہداء کے سوگوار خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کے ایک قومی سیاسی لیڈر نے کہا تھا کہ اگر وہ پاکستان کے وزیر اعظم ہوتے تو وہ وزیرستان میں کبھی فوج نہ بھیجتے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکمران سیاستدانوں نے دہشتگردوں سے اپنے تعلقات کا واسطہ دیتے ہوئے ان سے گزارش کی تھی کہ وہ انکو انتخابات میں ووٹ دیں اور ساتھ ہی پنجاب کو دہشتگردی کا نشانہ نہ بنائیں۔ میاں منظور احمد وٹو نے محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انکی شہادت صرف پاکستان کا ہی نقصان نہیں تھا بلکہ پوری دنیا کا ناقابل تلافی نقصان تھا۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ پاکستان کی دنیا میں نیک نامی کا چلتا پھرتا بے مثال سفیرتھیں اور وہ دنیا کے مشہور علمی، سیاسی اور سفارتی فورمز پراپنی تقاریر سے پاکستان کے مقدمے کو بہترین انداز میں پیش کیا کرتی تھیں جس پر سٹیڈنگ اوویشن سامعین کی طرف سے ملتی تھی۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ انکی محترمہ کے ساتھ سیاسی ورکنگ ریلیشن شپ قابل قدر تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ وعدے کی پکی تھیں۔ محترمہ نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ پنجاب کے آئندہ وزیراعلیٰ ہونگے چنانچہ انہوں نے پیپلز پارٹی کی 108 نشستوں کے ساتھ مجھے پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنانے کا وعدہ پورا کیا جبکہ میرے پاس صرف 18 نشستیں تھیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پاس 95 نشستیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ مشاورت کی سیاست کرتی تھیں ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب پیپلز پارٹی کو انتخابات میں شکست ہوئی تو انہوں نے پارٹی عہدیداروں کو اپنے پاس مشاورت کے لیے بلایا اور ان سے پارٹی کے مستقبل کے بارے میں مشاورت کی اور اسی مشاورت کی بنیاد پر انہوں نے پارٹی کو فعال بنانے کا عزم کیا اور پیپلز پارٹی دوبارہ الیکشن جیت کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ میاں منظور احمد وٹو نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے غریب عوام کو نہ صرف شعور دیا بلکہ انکو ووٹ دینے کا حق بھی دیا کیونکہ اس سے پیشتر اسمبلیوں کے ممبر بی ڈی ممبرز منتخب کیا کرتے تھے اور عوام کوووٹ دینے کا حق حاصل نہیں تھا۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ اسوقت ملک میں دہشتگردی اور انتہا پسندی نے قوم کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور یہ لوگ بندوق کی نالی پر اپنے نظریات قوم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انکے وزارت اعلیٰ کے زمانے میں بھی یہ لعنت سر اٹھا رہی تھی لیکن انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی سپورٹ سے اسکی موثر سرکوبی کی۔ انہوں نے یاددلایا کہ مال روڈ پر انتہاء پسند تنظیمیں اسلحے کی نمائش جلوسوں میں سر عام کرتی تھیں اور میری حکومت نے اسلحے کی نمائش پر پابندی لگانے کے لیے بل پاس کیا اور اسے بلا امتیاز نافذ کیا ۔ اسی طرح لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال پر بھی پابندی لگا دی گئی کیو نکہ اسکے ذریعے انتہاء پسند جماعتوں کے لوگ انہیں فرقہ واریت کو بھڑکانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ حکومت نے ان پر پابندی لگانے کے علاوہ پنجاب سے منانفرت کی وال چاکنگ بھی ختم کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اس قانون کی عزت کرتے ہیں جسکی عملداری بلاتفریق ہو اور آج لوگ قانون کے اس زمانے کے نفاذ کیآج مثالیں دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے محترمہ شہید کو اعتماد میں لے کر سارے پنجاب میں 30ہزار گاؤں میں رہنے والے کروڑوں غریبوں کو مکانوں کے حقوق دلائے جسکے لیے باقاعدہ قانون سازی کرنے کے بعد حد بندیاں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ہی ملک میں ایک واحد ایسا صوبہ ہے جہاں ہر گاؤں اور گھر کی حد بندی اس زمانے میں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آج دیہاتوں میں رہنے والے کروڑوں غریب لوگ اپنے اپنے مکانوں میں مالکانہ حقوق کے ساتھ سکون کی زندگی گزار رہے ہیں۔
اس سے قبل سردار لطیف کھوسہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی کو آج تک انصاف نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ کئی سالوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کا صدارتی ریفرنس عدالتوں میں پڑا ہے لیکن ابھی تک اسکا فیصلہ نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح شہید بے نظیر بھٹو کا مقدمہ بھی طوالت کا شکار ہے اور انکے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی کوئی ٹھوس پیشرفت نظر نہیں آتی۔انہوں نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی نے جمہوریت کو بچانے کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے اوربی بی کے مشن کو پورا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔حاجی عزیز الرحمن چن نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی شہادت اور پشاور کا سانحہ دونوں ایک ہی مائنڈ سیٹ کی کڑیاں ہیں۔ملک مشتاق اعوان نے کہا کہ آج عہد تجدید کا دن ہے کہ ہم محترمہ کے نقش قدم پر چلیں گے اور پیپلز پارٹی کے کارکن غریب عوام کے حقوق کی جدوجہد کرتے رہیں گے۔نوید چوہدری نے کہاکہ شہید بے نظیر بھٹو نے دہشتگردی کے ناسور کو 10سال پہلے ہی دیکھ لیا تھا اور کہا کہ یہ ہماری جنگ ہے اور اب ملک کی سیاسی قیادت بھی اسی نتیجے پر پہنچی ہے۔ سوشل میڈیا کی انچارج جہاں آراء وٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں دہشتگردی کو اپنی آئندہ نسلوں کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے دہشتگردی اور انتہاء پسندی کو ختم کرنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ دھرنے کی سیاست کرنیوالوں کو بھی اسکی اہمیت کا احساس ہو گیا ہے۔ اسکے بعد اجتماعیہ دعا کی گئی جسمیں محترمہ شہید بے نظیر بھٹو، شہید ذوالفقار علی بھٹو اور دوسرے شہداء بشمول پشاور کے شہداء کی مغفرت اور بلندی درجات کے لیے دعا کی گئی اور کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ قوم کو دہشتگردی کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے متحد رکھے۔ اسکے بعد پارٹی سیکریٹریٹ میں شمعیں روشن کی گئیں۔ اس موقع پر سابق گورنر سردار لطیف کھوسہ، سہیل ملک، دیوان محی الدین ، جہاں آراء وٹو،ملک مشتاق اعوان، عزیزالرحمن چن، نوید چوہدری، میاں ایوب، افنان بٹ، ڈاکٹر خیام، حق نواز، ڈاکٹر بنگش، احتشام ا لحق، منظور مانیکا، صنم ٹھاکر، شیخ محبوب ایڈووکیٹ، خرم کھوسہ، لبنی چوہدری، عابد صدیقی، میاں عباس شاہ اور بہت سارے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں نے بھرپور شرکت کی۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں